برطانیہ میں فلسطین ایکشن گروپ کی حمایت پر کریک ڈاؤن، 41 سے زائد افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
لندن:
برطانیہ میں فلسطین ایکشن گروپ کی حمایت کے الزام میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پارلیمنٹ اسکوائر سے 41 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار ہونے والوں میں خواتین، بزرگ شہری اور طلبا شامل ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق حکومتِ برطانیہ نے فلسطین ایکشن گروپ کو پہلے ہی کالعدم قرار دے رکھا ہے اور اس کی حمایت کرنے والوں کو 14 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سیکیورٹی خدشات اور غیر قانونی اجتماع کے خلاف کی گئی تاہم مظاہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پرامن اور خاموش احتجاج کر رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بھی گزشتہ ہفتے 29 افراد کو اسی نوعیت کے الزامات میں حراست میں لیا گیا تھا۔
احتجاج کرنے والے افراد نے برطانیہ کی اسلحہ ساز کمپنیوں کی عمارتوں کے باہر مظاہرے کیے جنہیں مظاہرین نے جنگی جرائم میں ملوث قرار دیا ہے۔
لندن کے علاوہ مانچسٹر، کارڈیف اور شمالی آئرلینڈ میں بھی فلسطینی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خصوصاً غزہ میں جاری صورتحال کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔