لندن:

برطانیہ میں فلسطین ایکشن گروپ کی حمایت کے الزام میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پارلیمنٹ اسکوائر سے 41 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔

گرفتار ہونے والوں میں خواتین، بزرگ شہری اور طلبا شامل ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق حکومتِ برطانیہ نے فلسطین ایکشن گروپ کو پہلے ہی کالعدم قرار دے رکھا ہے اور اس کی حمایت کرنے والوں کو 14 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سیکیورٹی خدشات اور غیر قانونی اجتماع کے خلاف کی گئی تاہم مظاہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پرامن اور خاموش احتجاج کر رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بھی گزشتہ ہفتے 29 افراد کو اسی نوعیت کے الزامات میں حراست میں لیا گیا تھا۔

احتجاج کرنے والے افراد نے برطانیہ کی اسلحہ ساز کمپنیوں کی عمارتوں کے باہر مظاہرے کیے جنہیں مظاہرین نے جنگی جرائم میں ملوث قرار دیا ہے۔

لندن کے علاوہ مانچسٹر، کارڈیف اور شمالی آئرلینڈ میں بھی فلسطینی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خصوصاً غزہ میں جاری صورتحال کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود