صدر مملکت اور وزیر اعظم کا شہدائے کشمیر کو خراج تحسین، کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
صدرمملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے 13 جولائی یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر کشمیری شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آزادی کی جدوجہد کیلیے ڈٹ جانے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
ایوان صدر کی جانب سے میڈیا کو جاری اعلامیے میں صدر آصف علی زرداری نے یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر، اُن 22 عظیم کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کی جنہوں نے 13 جولائی 1931 کو سری نگر جیل کے باہر ظلم و جبر کے خلاف اور حقِ آزادی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ آج کشمیری عوام جس عظیم جدوجہد کو آگے بڑھا رہے ہیں، وہ انہی 22 شہداء کی قربانیوں کا تسلسل ہے۔ شہدا کی جاں نثاری نے کشمیری قوم کے دلوں میں آزادی کی جو شمع جلائی، وہ آج بھی روشن ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی بہادری، عزم اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، جو دہائیوں سے بھارتی تسلط کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں اور اپنی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک عسکری قید خانہ بنا دیا ہے جہاں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، سیاسی قید، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں اور مسلمانوں کی شناخت مٹانے کی منظم سازشیں جاری ہیں۔ آج ہم ان شہداء اور دیگر تمام کشمیریوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
صدر زرداری نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور اس تنازع کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کریں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کشمیری بھائیوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کہ انہیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ یوم شہداء کشمیر ہر سال 13 جولائی 1931 کو ان 22 کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جنہوں نے جموں و کشمیر کی ڈوگرہ فورسز کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن کشمیر کے مسلمانوں کی موروثی استقامت، سفاک قوتوں کے خلاف مزاحمت اور غیر متزلزل عزم کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے، آزادی، انسانی حقوق اور حقوق کشمیر کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کی جدوجہد کی کشمیر کی پوری تاریخ میں برقرار رہی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام حق خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی جائز جدوجہد کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کرتے رہے اور کررہے ہیں، حکومت پاکستان، ہندوستان کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اظہار کرتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم ان تمام کشمیری شہداء کی بہادری اور عزم کو سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں پر محیط ہندوستانی قبضے کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ آج کے دن حکومت پاکستان ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیر کے مسئلے کا حل اور جموں کشمیر کے حق خودارادیت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا علی زرداری نے کہا کہ کشمیر کے پیش کرتے جنہوں نے کو خراج کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔