اسرائیلی فوج کے ہاتھوں امداد کے منتظر 38 افراد سمیت مزید 98 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
غزہ(نیوز ڈیسک)غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت نہ تھم سکی، قابض فوج نے مختلف علاقوں پر حملے کرکے صبح سے اب تک مزید 98 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں میں شہید 38 افراد امداد کے انتظار میں قطاروں میں کھڑے تھے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے آج تازہ حملوں میں کم ازکم 98 فلسطینی شہید ہوئے اور7 اکتوبر 2023 سے اب تک شہدا کی مجموعی تعداد57 ہزار 850 سے تجاوز کرگئی جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار 95 تک پہنچ گئی۔
اُدھر غزہ میں انسانی امداد کی شدید قلت برقرار ہے۔ فلسطینی حکام نے خبردار کیا کہ علاقے میں جاری محاصرے اور انسانی امداد کی شدید قلت کے باعث تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار بچے قحط اور غذائی قلت کے سنگین خطرے سے دوچار ہیں، فلسطینی حکام نے اس معاملے پر عالمی برادری کی خاموشی کو “شرمناک” قرار دیا۔
اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی اونروا کی تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ کا 86.
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مارچ کے وسط میں اسرائیل کی جانب سے حماس کے ساتھ سیزفائر کی خلاف ورزی کے بعد اب تک 7 لاکھ 25 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم کی جوابی کارروائیاں
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے مشرقی غزہ میں اسرائیلی فوج پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
القسام بریگیڈز کے مطابق انہوں نے اسرائیلی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کے مطابق
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔