Jasarat News:
2026-07-24@07:19:06 GMT

ابراہیم اکارڈ، جدید دین اکبری

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

معاہدہ ابراہیمی ایک سفارتی معاہدہ ہے جو 2020 میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ امریکا کی ثالثی میں کیا۔ اس معاہدہ کے تحت ان مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ سفارتی تعلقات قائم کیے اور باقاعدہ سفارت خانے بھی کھولے جانے کا آغاز کیا۔ ان معاہدوں کا نام سیدنا ابرہیمؑ کے نام پر رکھا گیا تاکہ تینوں ابراہیمی ادیان یہودیت، عیسائیت، اسلام کو مشترکہ بنیاد پر لایا جائے۔ یہ معاہدہ بظاہر ترقی اور استحکام کے لیے کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں یہ فلسطینی کاز کے ساتھ کھلی بے وفائی ہے۔ اسرائیل نے طویل عرصے سے مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطینی علاقوں میں مظالم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ان حالات میں کسی بھی اسلامی ملک کا اسرائیل کو تسلیم کرنا ظلم کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ پاکستان نے اپنے قیام سے لیکر اب تک فلسطین کے حق خودداریت کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور بعد ازاں تمام حکومتوں نے یہ ہی موقف اختیار کیا کہ جب تک فلسطینی عوام کو ان کا حق نہیں مل ملتا پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ کچھ روز قبل پاکستان کے ایک وزیر کی جانب سے معاہدہ ابراہیمی کی حمایت اور اس معاہدے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا گیا جو کہ انتہائی افسوس ناک عمل ہے اور فلسطینی بھائیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف اور ان کی قربانیوں کی توہین ہے۔
2020 میں ہو نے والا ابراہیم اکارڈ بظاہر مشرق وسطیٰ میں امن، سفارت کاری اور تعاون کا معاہدہ ہے لیکن یہ اصل میں فلسطینی کاز کے زوال، عرب دنیا کی تقسیم اور گریٹر اسرائیل منصوبہ ہے۔ ابراہیم اکارڈ دراصل اسرائیل اور جدید عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا سلسلہ ہے۔ اس کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرین سے ہوا سعودی عرب تاحال کسی طور اس معاہدے میں شامل نہیں مگر اس کی پس پردہ سفارتی روابط کی اطلاعات گردش میں ہیں۔ ان معاہدات کا سب سے بڑا نقصان فلسطین کو ہوا ہے۔ فلسطینی قیادت نے ان معاہدات کو فلسطینی کاز کے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں سے فلسطینی ریاست کا تصور کمزور ہوگا اور اسرائیل کو قبضے جاری رکھنے کے باوجود سفارتی برتری حاصل ہوجائے گی اور اس معاہدے سے اسرائیل کو گریٹر اسرائیل کے قیام میں بڑی مدد حاصل ہوگی۔ گریٹر اسرائیل کا مطلب وہ اسرائیلی ریاست ہے جس کی سرحدیں نیل سے فرات تک جاتی ہیں اور جس میں اردن، عراق، شام، لبنان اور سعودی عرب کے کچھ حصے شامل تصورکیے جاتے ہیں۔ ابراہیم اکارڈ کے بعد اسرائیل کو خطے میں وہ قبولیت مل رہی ہے جو ماضی میں ناممکن سمجھیں جاتی تھی۔ بعض حلقے اسے ’’دین اکبری‘‘ کی جدید سیاسی شکل قرار دے رہے ہیں۔ مغل بادشاہ اکبر نے مختلف مذاہبِ کو یکجا کر کے ’’دین الٰہی‘‘ کی بنیاد رکھی تھی۔ اسی طرز پر اب ابراہیم اکارڈ کے ذریعے اسلام، یہودیت اور عیسائیت کو ایک سیاسی اتحاد میں لایا جا رہا ہے جو مسلمانوں کے عقائد، تاریخ اور نظریاتی بنیادوں سے متصادم سمجھا جا رہا ہے۔ ابراہیم اکارڈ بظاہر امن کا معاہدہ ہے مگر درحقیقت اس سے فلسطین کا مقدمہ کمزور ہوگا اور اسرائیل کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ عرب دنیا تقسیم ہو جائے گی اور عرب ممالک میں امریکا کی بالادستی قائم ہوجائے گی اور یہ معاہدہ اسلامی ممالک کے لیے ان کی اسلامی شناخت کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کیا جائے گا۔ امت مسلمہ کے لیے یہ ایک بڑی آزمائش اور تنبیہ ثابت ہوگا۔ امت مسلمہ کے حکمراں اور امت جاگے کہ ورنہ پھر یہ تماشا ’’دین اکبری‘‘ کی طرح ایک اور سیاہ باب بن کر رہے جائے گا۔
پاکستان کی ریاست اور عوام کا پختہ عزم اور موقف رہا ہے کہ اسرائیل کو کسی بھی قیمت پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ معاہدہ مسلم دنیا کو دو حصوں میں بانٹ رہا ہے۔ جو بھی حکومتی وزیر کسی بھی طاقت ور کے ایماء پر اس معاہدے کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار اور بات کررہا ہے وہ کھلم کھلا فلسطین کے کاز سے غداری کررہا ہے۔ اسلام ہمیں مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے کا حکم دیتا ہے نہ کہ ظالم کے ساتھ۔ اسرائیل ایک غاصب، قاتل اور نسل پرست ریاست ہے۔ اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنا ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں یا معاہدہ ابراہیمی کی حمایت نہ صرف قابل مذمت ہیں بلکہ یہ پاکستان کے نظریاتی تشخص آئینی بنیادوں اور اسلامی اخوت کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان اپنے تاریخی موقوف پر ڈٹ کر قائم رہے اور اسرائیل جیسے قابض ریاست کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات سے مکمل گریز کیا جائے اور فلسطین کی مکمل آزادی تک اس کی حمایت جاری رکھی جائے۔ان شاء اللہ وہ وقت بھی دور نہیں جب قبلہ اوّل کو آزادی حاصل ہوگی اور فلسطین آزاد ہوگا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیل کو تسلیم ابراہیم اکارڈ اور اسرائیل اور فلسطین اس معاہدے کی حمایت کے ساتھ کسی بھی رہا ہے اور اس کے لیے

پڑھیں:

بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔

pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم