کراچی، آگرہ تاج کالونی: مخدوش عمارت کو خالی کرانے کا عمل مکمل، بلڈر کے خلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے لیاری کی آگرہ تاج کالونی میں 7 منزلہ عمارت میں دراڑیں پڑنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر عمارت کو خالی کرایا اور سیل کر دیا۔
یہ اقدام عمارت کے مکینوں کی زندگی کو خطرے سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے، جس کے تحت پولیس اور انتظامیہ نے رات کے وقت عمارت سے مکینوں کو نکالنے کے لیے آپریشن کیا۔
پولیس کو عمارت کے مکینوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جہاں مکینوں نے عمارت خالی کرنے سے انکار کیا۔ تاہم ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے انہیں عارضی رہائش فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ وہ اپنے خاندانوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر سکیں۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے اس معاملے میں فوری ایکشن لیتے ہوئے عمارت کے بلڈر منصور شاہ اور نامعلوم ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بلڈر اور ٹھیکیدار نے عمارت کی تعمیر میں ناقص مٹیریل استعمال کیا، جس کی وجہ سے عمارت خطرناک حالت میں پہنچ گئی اور انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ بن گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق عمارت کو غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا اور اس میں استعمال ہونے والا مٹیریل غیر معیاری تھا، جس سے عمارت کی ساخت متاثر ہوئی۔
ضلعی انتظامیہ نے عمارت کو خطرناک قرار دیتے ہوئے پانی کی ٹنکی لیک کرکے اور بجلی کے کنکشن منقطع کر کے عمارت کو سیل کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے اس موقع پر کہا کہ لیاری میں مخدوش عمارتوں کے خلاف پیر سے آپریشن کیا جائے گا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
فائل فوٹوکراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔