لیاری میں تباہ عمارت سے ملحق عمارتیں گرائی جائیں گی، مکینوں کو سامان نکالنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں 4 روز قبل گرنے والی عمارت سے ملحق دیگر عمارتوں کے مختلف حصے گرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ گرائی جانے والی ملحق عمارتوں سے سامان نکالنے کیلئے مکینوں کو بلایا جا رہا ہے، سامان نکالے جانے کے بعد عمارتوں کو گرانے کا کام شروع کیا جائے گا۔
ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے شری رامناتھ مہاراج نے دعویٰ کیا ہے کہ لیاری میں گرنے والی بلڈنگ میں ملبے تلے دب کر مرنے والے 27 میں سے 20 افراد کا تعلق ہندو کمیونٹی سے ہے۔
ایس بی سی اے ڈیمولیشن ٹیم کی طرف سے ابتدائی طور پر منہدم عمارت کے دوسرے حصے کو گرایا جائے گا، متاثرہ عمارت کے گھروں سے سامان نکالنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ لیاری بغدادی میں عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے کو چار روز گزر چکے ہیں جس میں 27 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ علاقے کی فضا سوگوار تو ہے ہی لیکن متاثرہ عمارت کے اطراف کی مخدوش عمارتوں کے رہائشی کسی انجانے خوف کا شکار بھی ہیں۔
ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے شری رامناتھ مہاراج نے دعویٰ کیا کہ لیاری میں گرنے والی بلڈنگ میں ملبے تلے دب کر مرنے والے 27 میں سے 20 افراد کا تعلق ہندو کمیونٹی سے ہے۔
شری رامناتھ مہاراج کا کہنا تھا کہ متاثرین کو حکومت کی جانب سے کوئی گھر نہیں دیا گیا، متاثرین اپنے رشتے داروں کے پاس یا مہیشوری کمیونٹی سینٹر میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہندو کمیونٹی سے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔