گنج پن سے بچنے کا تیل استعمال کرنے پر 200 افراد کی آنکھیں متاثر
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
بھارت میں گنج پن سے بچنے کا تیل استعمال کرنے سے 200 افراد کی آنکھیں متاثر ہوگئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاست پنجاب میں بالوں کو گرنے اور جھڑنے سے بچانے کے لیے سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی اور مقامی شوبز شخصیات سمیت دوسری معروف شخصیات کو بھی شامل کیا گیا۔
مہم میں کہا گیا کہ تیل کو استعمال کرنے کے بعد بال گرنا اور جھڑنا بند ہوگئے اور بال پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئے۔
سنگرور نامی شہر میں کمپنی کی جانب سے ایونٹ کا انعقاد بھی کیا گیا جہاں تیل کا استعمال کیا گیا۔
ایونٹ میں درجنوں افراد نے شرکت کی اور پیسوں کے عوض بالوں کو جھڑنے اور گرنے سے روکنے والے تیل کو لگایا اور پیسے دے کر چلے گئے۔
تیل لگوانے کے چند گھنٹوں بعد ہی ان افراد کو آنکھوں کی الرجی اور جلد کی خارش کی شکایت کرتے دیکھا گیا۔
مذکورہ افراد کو آنکھوں کا انفیکشن ہوگیا اور تمام افراد ایمرجنسی اسپتالوں کا رخ کرنا پڑا، بعدازاں مقامی انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے ناقص ہیئر آئل کیمپ لگانے والے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔