لیاری: 5منزلہ عمارت کے ملبے سے 3 ماہ کی بچی معجزانہ طور پر زندہ نکال لی گئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک :جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے یہ کہاوت تو ہم بچپن سے ہی سنتے آرہے ہیں اسی کی ایک جیتی جاگتی مثال کراچی کے علاقے لیاری میں زمین بوس ہو نے والی عمارت میں سامنے آئی جس میں تین ماہ کی بچی کو زندہ بچا لیا گیا ،بچی کو معمولی خراش آئی۔
تفصیلات کے مطابق لیاری میں زمین بوس ہو نے والی عمارت سے اب تک 27 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن میں سے 20 کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ریسکیو حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے 27 افراد میں سے 20 کا تعلق ہندو کمیونٹی سے ہے اور یہ ایک ہی خاندان کے افراد تھے جو آپس میں رشتہ دار بھی تھے تاہم ریسیکو 1122 کے حکام کے مطابق اس حادثے میں ایک تین ماہ کی بچی حیران کن طور پر محفوظ رہی جسے صرف معمولی خراشیں آئی ہیں۔
افسوس ناک خبر، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما عبدالستار بچانی انتقال کرگئے
بچی کی والدہ اور خاندان کے چند افراد کی لاشیں کچھ فاصلے پر موجود تھیں،بچی کے اوپر مٹی اور دھول پڑی ہوئی تھی اور ایک معمولی چوٹ کی وجہ سے اس کی ناک سے خون نکل رہا تھا، اس کے علاوہ بچی کے جسم پر کوئی زخم نہیں تھا۔
جس مقام پر یہ بچی ملی تھی اس سے تھوڑے ہی فاصلے پر اس کی والدہ کی لاش کو ملبہ کاٹ کر نکالنا پڑا۔ اس کے خاندان کے دیگر افراد کی لاشیں بھی بھاری ملبے میں سے نکالی گئیں تھیں۔
موقع پر موجود کچھ لوگوں نے بھی ہمیں بتایا کہ ماں نے حادثے کے وقت بچی کو دور بھینک دیا تھا۔ اس سے تو یہی سمجھ آتا ہے کہ بچی کی ماں کے پاس شاید اتنا ہی موقع تھا کہ وہ خود کو بچاتی یا اپنی بچی کو اور اس نے بچی کو بچانے کی کوشش کی۔
دیگر کی
شاہدرہ ٹاؤن میں افسوسناک واقعہ؛ کم عمر ڈرائیور نے موٹرسائیکل سواروں کو روند ڈالا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بچی کو
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔