محکمہ موسمیات اور اکاونٹیبلٹی لیب کے درمیان موسمیاتی معلومات کی فراہمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تعاون کی یاد داشت طے پا گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
محکمہ موسمیات اور اکاونٹیبلٹی لیب کے درمیان موسمیاتی معلومات کی فراہمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تعاون کی یاد داشت طے پا گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 1 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان کے محکمہ موسمیات اور اکاونٹیبلٹی لیب پاکستان کے درمیان ایک تعاون کی ایک یادداشت طے پا گئی ہے جس کا مقصد عام شہریوں، بالخصوص کسانوں اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ طبقات تک بروقت اور قابلِ فہم موسمی معلومات پہنچانا ہے۔ اس حوالے سے دونوں اداروں نے باضابطہ طور پر ایک تعاون نامے پر دستخط کیے۔یاد داشت کے تحت دونوں ادارے مقامی سطح پر موسم کی درست پیش گوئیوں، موسمی صورتحال جاننے کے لیے خودکار آلات کی تنصیب اور موسمیاتی اعدادو شمار کے موثر استعمال سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے پر مل کر کام کریں گے۔
اس شراکت داری سے چھوٹے کسانوں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات، صاحبزاد خان نے کہا کہ”موسمیاتی معلومات صرف درست ہونا کافی نہیں، بلکہ ان کا عام لوگوں تک بروقت اور آسان زبان میں پہنچنا بھی ضروری ہے۔ اکاونٹیبلٹی لیب کے ساتھ اس شراکت داری سے ہم اپنی معلومات کو ان لوگوں، خصوصا ہمارے کسان، تک مثر انداز میں پہنچا سکیں گے جو براہ راست ماحولیاتی اثرات سے دوچار ہیں۔
اکاونٹیبلٹی لیب پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، فیاض یاسین نے اپنے تاثرات میں کہا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں موسمیاتی معلومات کی فراہمی محض اعلی سطح پر نہ ہو بلکہ یہ عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑی اور مقامی تناظر میں ہو۔ اس شراکت داری کے ذریعے ہم ایک ایسا نظام بنانا چاہتے ہیں جہاں موسمی اعدادوشمار صرف معلومات نہ ہوں بلکہ ان کی بنیاد پر فیصلہ سازی ہو، روزگار کو بہتر بنایا جائے اور مقامی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کو فروغ دیا جاسکے۔”محکمہ موسمیات اور اکاونٹیبلٹی لیب کے مابین اس غیر مالیاتی تعاون کے ذریعے دونوں اداروں کی مشترکہ کوشش ہے کہ موسمیاتی موافقت، پائیدار ترقی اور دیہی و پسماندہ علاقوں میں مثر معلوماتی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔ابتدائی طور پر اس منصوبے کا آغاز چند منتخب اضلاع میں پائلٹ سرگرمیوں سے کیا جائے گا، جن کے نتائج کی روشنی میں اسے ملک بھر میں وسعت دی جا سکتی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعشرہ محرم الحرام ،سالانہ مجلس عزاجمعہ 4جولائی کو شام ساڑھے 4بجے ، رفعت ہاشمی، مکان نمبر 273، سٹریٹ 75، جی 9 تھری اسلام آباد میں بپا ہو گی عشرہ محرم الحرام ،سالانہ مجلس عزاجمعہ 4جولائی کو شام ساڑھے 4بجے ، رفعت ہاشمی، مکان نمبر 273، سٹریٹ 75، جی 9 تھری اسلام آباد... جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ ، کون سے صوبے کا کون چیف جسٹس ہوگا، دستاویز سب نیوز پر یو این سلامتی کونسل کی صدارت، پاکستان جامع اور عملی نتائج کے حصول کیلئے پرعزم ہے، اسحاق ڈار امریکا سے آئی خاتون نے اسلام قبول کرکے دیر بالا کے نوجوان سے شادی کرلی اسلام آباد، مصنف و تجزیہ کار سردار فہیم کے قتل کا معمہ حل، دو ملزمان گرفتار سوات، وفاقی وزیر کا ہوٹل زد میں آنے پر تجاوزات کیخلاف آپریشن روک دیا گیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب