کراچی میں عمارت گرنے کا واقعہ، ڈی سی ساؤتھ نے مکینوں کو مزید خطرے سے آگاہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
کراچی میں لیاری کے علاقے بغدادی میں گزشتہ روز منہدم ہونے والی رہائشی عمارت کے بعد اب مزید خطرے کی بھی نشاندہی کردی گئی۔
لیاری میں خطرناک عمارتوں کے حوالے سے تعداد سامنے آئی ہے۔
آج ڈی سی ساؤتھ جاوید کھوسو نے لیاری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو آپریشن میں مزید 8 سے 10 گھنٹے لگیں گے، احتیاط کے ساتھ ریسکیو آپریشن کو اگلے مرحلے میں داخل کیا گیا ہے۔
جاوید کھوسو نے کہا کہ ملبے میں اب بھی 10 سے 12 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، اس عمارت کو 3 سال قبل خطرناک قرار دیا گیا تھا، اور ڈیڑھ ماہ قبل بھی عمارت کو نوٹس جاری کیا تھا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق حادثے کے 3 زخمی زیرِ علاج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لیاری میں اب بھی انتہائی خطرناک 22 عمارتیں موجود ہیں، اب تک لیاری میں 16 خطرناک عمارتوں کو خالی کروا دیا ہے، دیگر عمارتوں کو خالی کروانے کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔
جاوید کھوسو نے کہا کہ نوٹس کے بعد رہائشیوں کو عمارت خالی کرنے کے لیے آگاہ کیا جاتا ہے، خطرناک عمارتوں کے بجلی اور گیس کنکشن کاٹے جاتے ہیں اور عمارت خالی نہ کی جائے تو قانونی کارروائی ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔