اسرائیل کا حملہ،مزید 138 فلسطینی شہید، خان یونس کے مزید علاقے خالی کرنے کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
غزہ (اوصاف نیوز) آج اسرائیلی فوج کے حملوں میں کم از کم 138 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ امدادی مراکز پر خوراک کے حصول کے خواہش مند فلسطینی شہریوں کی شہادتوں کی تعداد 613 ہوچکی ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق وزارت صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ غزہ میں آج صبح سے اب تک اسرائیلی فوج کے حملوں میں کم از کم 138 فلسطینی شہید اور 452 زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ نے کہا کہ 27 مئی سے لے کر آج تک غزہ میں امدادی مراکز پر اور قرب و جوار میں امداد کے حصول کے منتظر نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہونے و الوں کی تعداد 631 ہوچکی ہے۔
دریں اثنا اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کی پٹی میں واقع خان یونس کے کئی علاقوں میں رہائش پذیر فلسطینیوں کو یہ علاقے خالی کرنے کے لیے انتباہ جاری کیا ہے۔
شہر کے مشرقی اور مرکزی حصوں کے لیے جاری کی گئی ان وارننگز میں وہ علاقہ بھی شامل ہے جہاں ناصر ہسپتال واقع ہے۔
عالمی برادری اسرائیل کیساتھ تجارت بند اور تعلقات منقطع کردیں؛ نمائندہ اقوام متحدہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔