لیاری کے علاقے بغدادی میں جمعہ کی صبح ایک خستہ حال 5 منزلہ رہائشی عمارت زمیں بوس ہوگئی، افسوسناک واقعے میں اب تک 13 افراد جاں بحق اور 9 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کئی افراد تاحال ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

ریسکیو ادارے ایدھی اور ریسکیو 1122 کے مطابق حادثہ بغدادی کے علاقے 8 چوک میں 24 گھنٹہ کلینک کے قریب پیش آیا۔ سول اسپتال کراچی اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹیٹیوٹ آف ٹراما کے مطابق 9 لاشیں اسپتال لائی گئیں، جبکہ 4 افراد دورانِ علاج دم توڑ گئے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے جاں بحق افراد کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مرنے والوں میں 2 خواتین اور متعدد مرد شامل ہیں۔ جاں بحق افراد میں فاطمہ دختر بابو (55 سال)، پریم (32 سال)، وسیم ولد بابو (35 سال)، حور بائی دختر کشن (55 سال)، پرانتک ولد آرسی (21 سال) اور دیگر شامل ہیں۔

ڈاکٹر صابر میمن کے مطابق 6 زخمیوں کو طبی امداد دی گئی جن میں سے 5 کی حالت بہتر ہے جبکہ ایک زخمی کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں میں راشد، یوسف، سنیتہ، فاطمہ اور چندہ شامل ہیں۔

ایس ایس پی سٹی نے بتایا کہ اب تک ملبے سے 7 لاشیں اور 8 زخمیوں کو نکالا گیا ہے، جبکہ 20 سے 25 افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے تصدیق کی ہے کہ بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔

ریسکیو اداروں کو موبائل سگنلز کی بندش کے باعث اطلاع دیر سے ملی۔ تنگ گلیوں اور گھنے رہائشی علاقے کے باعث امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ مقامی افراد اور فلاحی تنظیمیں بھی اپنی مدد آپ کے تحت امداد فراہم کر رہی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق عمارت میں 12 سے زائد فلیٹس اور نیچے دکانیں تھیں جو واقعے کے وقت کھلی تھیں۔

وزیر بلدیات سعید غنی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے متعلقہ افسران کو معطل کر دیا ہے اور 3 روز میں رپورٹ پیش کرنے والی تحقیقات کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

وزیر بلدیات نے بتایا کہ متاثرہ عمارت کو 2 جون 2025 کو خطرناک قرار دے کر آخری نوٹس جاری کیا گیا تھا، یوٹیلٹی سروسز ختم کرنے کے لیے خطوط بھی ارسال کیے گئے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مئی 2024 میں بھی عمارت خالی کرنے کا خط جاری کیا گیا تھا۔

وزیر بلدیات نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے، اور تمام ادارے موقع پر موجود رہ کر کام کی نگرانی کریں۔ ان کے مطابق ہماری اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ، صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا اظہار افسوس

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور خستہ حال عمارتوں کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ انہوں نے سندھ حکومت کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد کے لیے دعا اور ورثا سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ریسکیو آپریشن تیز کیا جائے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

شہر میں 570 سے زائد خطرناک عمارتیں موجود

واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو ہنگامی طور پر خالی کرایا جائے۔ SBCA کے مطابق:

کراچی میں 570 عمارتیں خطرناک ہیں
حیدرآباد میں 80
میرپور خاص میں 81
سکھر میں 67
لاڑکانہ میں 4 عمارتیں مخدوش قرار دی گئی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جاں بحق افراد زخمیوں کو کے مطابق کا اظہار

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار