کراچی میں لڑکی کا مبینہ گینگ ریپ : ایک ملزم گرفتار، دیگر کی تلاش جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں ایک نوجوان لڑکی کے مبینہ گینگ ریپ کے واقعے میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2023 میں پنجاب میں ہر 45 منٹ میں ایک عورت کا ریپ کیا گیا
سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کیماڑی کیپٹن (ر) فیضان علی کے مطابق کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں ایک لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کا افسوسناک واقعہ پیس آیا تھا، یکم جولائی کو پیش آنے والے واقعے کا مقدمہ ایک روز قبل درج کیا تھا۔ متاثرہ لڑکی کے بیان کے مطابق ملزم نے اسے زبردستی موٹر سائیکل پر بٹھا کر اپنے ڈیرے پر لے جاکر اپنے ساتھیوں سمیت اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ایس ایس پی کے مطابق لڑکی رات کے وقت ملزمان کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی اور اپنے ماموں کے گھر پہنچ کر اہل خانہ کو واقعے سے آگاہ کیا، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ متاثرہ لڑکی کا طبی معائنہ سول اسپتال کراچی میں کروایا گیا اور پھر مقدمہ درج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کی صورتحال پر دنیا کا سب سے بڑا اجتماع، صنفی عدم مساوات پر تشویش
پولیس نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے چند گھنٹوں میں مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ایس ایس پی فیضان علی نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر معاشرے کے لیے خطرناک ہیں اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ میں مدرسے کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی: ’شور مچانے پر دیگر ملزمان بھاگ گئے’
واضح رہے کہ پاکستان میں انسداد زیادتی قوانین کے تحت ایسے جرائم کی سزا سزائے موت یا 10 سے 25 سال قید ہے، تاہم اس کے باوجود ایسے واقعات تشویشناک حد تک جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان خاتون کراچی گینگ ریپ ملزم گرفتار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان خاتون کراچی گینگ ریپ ملزم گرفتار
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک