پنجاب اسمبلی ‘ اپوزیشن رکن کا حکمومتی ممبر پر حملہ ، مکے مارے : میڈیا ہال میں بھی لڑائی حزب اختلاف کے 2ارکان معطل
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن رکن خالد زبیر نثار نے حکومتی بنچوں پر جا کر حسان ریاض پر حملہ کر دیا جس پر قائم مقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے خالد زبیر نثار کی رکنیت پندرہ نشستوں کے لئے معطل کردی۔ جبکہ اپوزیشن کے دوسرے رکن شیخ امتیاز محمود کو قائم مقام سپیکر کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے پر پندرہ نشستوں کیلئے معطل کر دیا گیا جس کا اسمبلی سیکرٹریٹ نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ قائم مقام سپیکر کے فیصلے کے خلاف اپوزیشن ارکان کارروائی کا بائیکاٹ کر کے ایوان سے باہر چلے گئے۔ سرکاری کارروائی کے دوران ترمیم زرعی انکم ٹیکس پنجاب 2025 سمیت چار مسودات قوانین منظور کر لئے گئے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت سے 2 گھنٹے19 منٹ کی تاخیر سے ہوا۔ دوران اجلاس مبینہ طور پر آوازیں کسنے پر اپوزیشن رکن خالد زبیر نثار نے حکومتی رکن محمد حسان ریاض کو ان کی نشست پر جا کر مکا رسید کر دیا۔ حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے بروقت مداخلت کر کے بیچ بچائو کرایا۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی قائد حزب اختلاف معین قریشی اور قائم مقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ کی گفتگو کے دوران اپوزیشن رکن خالد زبیر نثار اپنی نشست سے اٹھ کر حکومتی نشستوں پر گئے اور محمد حسان ریاض پر حملہ کرکے انہیں مکا دے مارا۔ اس دوران حکومتی رکن نے بھی اپنا دفاع کیا اور خالد زبیر نثار کو مکا مارا تاہم اتنے میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں سے ارکان نے دونوں میں بیچ بچائو کرا دیا۔ اس دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے سے شدید تلخ کلامی کی گئی۔ قائم مقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے معاملے کو حل کرانے کیلئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس پانچ منٹ کے لئے ملتوی کردیا۔ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں پیش آنے والے واقعہ پر ڈپٹی سپیکر نے حکومت کے سینئر ارکان سے مشاورت کی۔ حکومتی ارکان نے کہا کہ اپوزیشن کا یہ رویہ ناقابل قبول ہے، نعرے بازی برداشت کی جا سکتی ہے مگر ہاتھا پائی ناقابل برداشت اور غیر جمہوری رویہ ہے۔ اس دوران قائم مقام سپیکر نے اپوزیشن رکن خالد زبیر نثار اور حکومتی رکن حسان ریاض کو اپنے چیمبر میں بلا لیا۔ اس کے بعد ایک بار پھر حکومت و اپوزیشن ارکان کو اپنے سپیکر چیمبر میں طلب کیا گیا۔ اس موقع پر حکومتی رکن حسان ریاض اور اپوزیشن رکن خالد زبیر نثار نے اپنا اپنا موقف قائم مقام سپیکر کے سامنے پیش کیا۔ اپوزیشن رکن نے کہا کہ حکومتی رکن کی جانب سے انتہائی نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا جس پر معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس پانچ منٹ کی بجائے ایک گھنٹہ بیس منٹ کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ ایک افسوسناک واقعہ ایوان میں ہوا، حکومت اور اپوزیشن دونوں اس کی مذمت کرتے ہیں، چیئر قواعد و ضوابط کے مطابق فیصلہ کریں، یہ مقدس ایوان کا معاملہ ہے، ایوان کے تقدس کی بات ہے ،کوئی اپنی نشست سے اٹھ کر حملہ کرے، مارے اور گالیاں دے، یہ نہ حسان ریاض اور نہ خالد زبیر نثار کا معاملہ ہے یہ ایوان کے تقدس کا معاملہ ہے، آپ فیصلہ دیں تاکہ آئندہ کوئی ممبر ایسا کام نہ کر سکے۔ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی نے کہا کہ اس کو ذاتیات کی طرف نہ دھکیلیں۔ قائم مقام سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ نے کہا کہ ایک ممبر اپنی نشست سے اٹھتا ہے اور حکومتی رکن پر جاکر حملہ کرتا ہے، میں اس دن کو سیاہ دن کے طور پر دیکھتا ہوں، آپ نے سپیکر ملک محمد احمد خان کے ساتھ بیٹھ کر کہا تھا اب دوبارہ ایسا واقعہ نہیں ہوگا لیکن دوبارہ حملہ ہوا جو بدترین مثال ہے، سپیکر ملک محمد احمد خان کی رولنگ کو نہیں چھوڑوں گا بلکہ اس پر عمل کروں گا، کسی کو اجازت نہیں دوں گا ایک ممبر دوسرے پر حملہ کرے، تمام معاملات طے پائے اس کے باوجود یہ ہوامجھے جو رولز اجازت دیتے ہیں میں اسی پر رہوں گا، بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے، یہ کوئی سبزی منڈی ہے، پنجاب میں اور پوری دنیا میں کیا پیغام گیا ہوگا، بڑی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے، مجھے پتہ ہے مجھے کیا کرنا ہے، میں رول 210 کے تحت خالد زبیر نثار اور امتیاز شیخ کو پندرہ نشستوں کے لئے معطل کرتا ہوں۔ حکومتی رکن رانا ارشد نے کہا کہ اگر یہ غنڈہ گردی کریں گے تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، کسی ممبر کی طرف ہاتھ بڑھایا تو بازو کاٹ دیں گے، بدمعاشی برداشت نہیں کریں گے۔ اس موقع پر اپوزیشن اراکین نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کرگئے۔ قبل ازیں اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن اراکین نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے جس کے جواب میں حکومتی اراکین نے بھی نعرے لگائے۔ معین قریشی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر کو جس طرح جعلی گواہیوں پر سزا دی گئی اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، سیشن کی کارروائی روک کر اجازت دی جائے کہ ہم ملک احمد خان بھچر سے اظہار یکجہتی کر سکیں۔ وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ ملک احمد خان بھچر ہمارے بھائی ہیں، غلطی پر عدالت نے سزا دی، سزا ہم نے نہیں عدالت نے دی ہے، حکومت نے کبھی نہیں چاہا کسی کو سزا ملے، نو مئی پر عدالتوں نے فیصلہ دیا ہے۔ قائم مقام سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے پر بحث نہیں کرائی جا سکتی۔ اپوزیشن رکن رانا شہباز نے اپنے اوپر جعلی مقدمات قائم کرنے پر ہاتھ میں قرآن پاک کا پارہ تھام لیا تاہم قائم مقام سپیکر نے قرآن پاک کا پارہ ہاتھ میں پکڑ کر بات کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جو پارہ آپ نے ہاتھ میں پکڑا اسے پڑھنا آتا ہے تو پڑھ کر سنائیں، آپ میں بات سننے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اپوزیشن اراکین نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے اور اسمبلی کی سیڑھیوں پر دھرنا دے کر احتجاج کیا۔ وزیر قانون صہیب بھرت نے کہا کہ غلط مقدمات کے حوالے سے آٹھ ماہ ہوگئے اپوزیشن کا کوئی ممبر نہیں آیا، یہ اپنی مدد خود ہی نہیں کرنا چاہتے، ہم تو آپ کا مسئلہ حل کرنے کو تیار ہیں۔ بعد ازاں اپوزیشن اراکین ایوان میں واپس آ گئے۔ پنجاب اسمبلی میں سرکاری کارروائی کے دوران مسودہ قانون کنٹرول اجزائے منشیات پنجاب 2025، مسودہ قانون آٹزم سکول اینڈ ریسورس سینٹر پنجاب 2025، مسودہ قانون ترمیم غیر منقولہ شہری جائیداد ٹیکس پنجاب 2025 اور مسودہ قانون ترمیم زرعی انکم ٹیکس پنجاب 2025 کثرت رائے سے منظور کر لئے گئے۔ اجلاس کے بعد بھی اپوزیشن اور حکومتی ارکان پھر آمنے سامنے آ گئے۔ اپوزیشن ارکان کے میڈیا ہال سے باہر نکلتے وقت 2 نا معلوم افراد اپوزیشن ارکان سے ٹکرائے، اور گالیاں نکالیں، اسمبلی سکیورٹی نے وقت پر پہنچ کر دونوں فریقوں کو الگ کیا۔ بعد ازاں حکومتی پریس کانفرنس کے دوران اعجاز شفیع پریس ہال میں داخل ہوئے۔ اپوزیشن رکن اعجاز شفیع کا کہنا تھا کہ وہ دو شخص کون ہیں جنہوں نے ہمارے ایم پی ایز کو گالیاں دی ہیں۔ حکومتی پریس کانفرنس کے دوران اعجاز شفیع کی بات پر پھر شور شرابا شروع ہوگیا۔ وزراء اعجاز شفیع کو خاموش کرواتے رہے۔ وزیر ذیشان رفیق اور بلال اکبر اپوزیشن ارکان کو لے کر پنجاب اسمبلی میں چلے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اپوزیشن رکن خالد زبیر نثار قائم مقام سپیکر اپوزیشن اراکین ظہیر اقبال چنڑ اپوزیشن ارکان پنجاب اسمبلی اور اپوزیشن حکومتی رکن اعجاز شفیع حسان ریاض ایوان میں نے کہا کہ سپیکر نے کے دوران حملہ کر پر حملہ کر دیا
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :