اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محرم الحرام کے دوران عزاداروں کے خلاف بنائے گئے بے بنیاد مقدمات کے خلاف مکمل قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے بائی روڈ زائرین کے ایران عراق داخلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کا صوبائی سطح پر اجلاس ملتان میں منعقد ہوا، جس میں تمام ونگز کے مسئولین نے شرکت کی۔ اجلاس میں تنظیمی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، اس کے علاوہ ونگز کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، اجلاس میں شریک رہنمائوں نے اس طرح کے اجلاس اور ملاقاتوں کو خوش آئند قرار دیا، اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں اس کی کمی محسوس کی گئی، صوبائی آرگنائزر علامہ قاضی نادر حسین علوی نے اس کمی کو پورا کیا اور پورے سیٹ اپ کو جمع کردیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محرم الحرام کے دوران عزاداروں کے خلاف بنائے گئے بے بنیاد مقدمات کے خلاف مکمل قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے بائی روڈ زائرین کے ایران عراق داخلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، رہنمائوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اگر حکومت کالعدم تنظیموں اور دہشتگردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تو ٹی وی چینلز پر بڑھکیں مارنا چھوڑ دے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اجلاس میں کے خلاف

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی