باجوڑ واقعہ: کے پی حکومت کا شہدا اور زخمیوں کے لیے امدادی پیکج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیرصدارت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں باجوڑ واقعے کے تناظر میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: باجوڑ بم دھماکا: اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار سمیت 4 افراد شہید، 11 زخمی
متعلقہ اداروں نے وزیراعلیٰ کو امن و امان کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی، خصوصاً باجوڑ میں حالیہ دہشتگردی واقعے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے باجوڑ سانحے میں شہید ہونے والے سویلینز اور سکیورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ نے شہید سویلینز کے لواحقین کے لیے ایک ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا، جبکہ شہید سکیورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ کے لیے بھی ایک ایک کروڑ روپے مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
اس کے علاوہ باجوڑ واقعے میں زخمی ہونے والے سویلینز اور سکیورٹی اہلکاروں کو 25، 25 لاکھ روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان سے سرگرم ‘گنڈاپور گروپ’ کا افغان طالبان سے کیا تعلق ہے؟
اجلاس میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات یقینی بنانے اور مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے مربوط حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امداد کا اعلان باجوڑ واقعہ علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امداد کا اعلان باجوڑ واقعہ علی امین گنڈاپور وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز کا اعلان کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔