فلسطینیوں کی نسل کشی پر نیدرلینڈ کا سخت ردعمل، اسرائیلی سفیر طلب، دو انتہاپسند وزیروں پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
ڈچ حکومت نے غزہ میں اسرائیلی مظالم کو "ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ دفاع" قرار دیتے ہوئے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
نیدرلینڈ نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے اور دو انتہاپسند اسرائیلی وزرا پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، ڈچ حکومت نے پیر کی شب ایک خط جاری کیا جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ وہ غزہ کی سنگین صورتحال پر احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔
حکومت نے وزیر اتمار بن گویر اور بیزلیل سموتریچ پر فلسطینیوں کے خلاف اکسانے، غیرقانونی بستیوں کی حمایت اور غزہ میں نسلی تطہیر کی وکالت جیسے الزامات کے تحت پابندی عائد کی ہے۔
ڈچ وزیر خارجہ کیسپر ویلڈکیمپ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ دونوں وزرا نے بارہا آبادکاروں کے تشدد کو ہوا دی اور غزہ میں نسل کشی کی کھلی حمایت کی۔
جون میں نیدرلینڈ نے سویڈن کی اس تجویز کی حمایت کی تھی جس میں یورپی یونین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان وزرا پر پابندیاں لگائی جائیں، تاہم تمام رکن ممالک کے اتفاق نہ ہونے کے باعث یہ تجویز منظور نہ ہو سکی۔
اسرائیلی وزرا نے ردِعمل میں اپنے مؤقف کا دفاع کیا۔ سموتریچ نے سوشل میڈیا پر یورپی قیادت کو "انتہا پسند اسلام" کے سامنے جھکنے کا الزام دیا، جبکہ بن گویر نے کہا کہ وہ اسرائیل کیلئے کام جاری رکھیں گے، چاہے پورا یورپ انہیں روک دے۔
ڈچ حکومت نے یورپی یونین کے اسرائیل کی تحقیقاتی فنڈنگ محدود کرنے کے مطالبے کی حمایت بھی کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے امدادی معاہدے کی خلاف ورزی کی، تو وہ تجارتی پابندیوں پر زور دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حکومت نے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔