Daily Mumtaz:
2026-06-03@04:27:58 GMT

ٹویوٹا کی عام گاڑی مہنگی اور لینڈ کروزر سستی ہوگئی

اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT

ٹویوٹا کی عام گاڑی مہنگی اور لینڈ کروزر سستی ہوگئی

کراچی(کامرس ڈیسک) ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی (IMC) نے اپنی تمام گاڑیوں کی قیمتوں میں سرکاری طور پر اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اقدام وفاقی بجٹ 2025–26 میں متعارف کرائی گئی NEV (نیو انہانسڈ ویلیو) لیوی کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ٹیکس صرف برقی، ہائبرڈ، برآمدی، اور سفارتی گاڑیوں کو استثنیٰ دیتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد پاکستان میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہے۔ ٹویوٹا کے علاوہ، ہونڈا، سوزوکی، اور چانگان سمیت تقریباً تمام بڑی کار ساز کمپنیوں نے بھی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ نئی قیمتوں کے مطابق مختلف ماڈلز کی قیمت میں 49 ہزار روپے سے لے کر 5 لاکھ 70 ہزار روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔ البتہ ٹویوٹا کرولا کراس کی نئی قیمتیں تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

نئی قیمتیں مختلف ماڈلز پر 49,000 روپے سے 600,000 روپے تک بڑھی ہیں۔ البتہ کرولا کراس (Corolla Cross) کی تازہ قیمتیں تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

یارس (Yaris) لائن اپ

GLI MT 1.

3: 4,649,000 روپے (+170,000)

ATIV MT 1.3: 4,829,000 روپے (+99,000)

GLI CVT 1.3: 4,809,000 روپے (+49,000)

ATIV CVT 1.3: 5,719,000 روپے (+115,000)

ATIV X CVT 1.5 (Beige Interior): 6,389,000 روپے (+134,000)

ATIV X CVT 1.5 (Black Interior): 6,449,000 روپے (+130,000)

کرولا آلٹس (Corolla Altis)

Altis X Manual 1.6: 6,099,000 روپے (+130,000)

Altis 1.6 X CVT-i: 6,699,000 روپے (+140,000)

Altis 1.6 X CVT-i Special Edition: 7,339,000 روپے (+150,000)

Altis X CVT-i 1.8: 7,029,000 روپے (+140,000)

Grande X CVT-i 1.8 (Beige Interior): 7,669,000 روپے (+160,000)

Grande X CVT-i 1.8 (Black Interior): 7,709,000 روپے (+160,000)

ہائی لکس (Hilux) سیریز

Hilux E: 11,379,000 روپے (+340,000)

Revo G 2.8: 12,329,000 روپے (+370,000)

Revo G Automatic 2.8: 12,939,000 روپے (+390,000)

Revo V Automatic 2.8: 14,279,000 روپے (+430,000)

Revo GR-S: 15,889,000 روپے (+530,000)

فورچیونر (Fortuner) SUV سیریز

2.7 Fortuner جی: 14,929,000 روپے (+510,000)

2.7 Fortuner وی: 16,659,000 روپے (+560,000)

Sigma 4: 18,169,000 روپے (+590,000)

Legender: 19,129,000 روپے (+570,000)

GR-S: 20,469,000 روپے (+600,000)

ٹویوٹا Land Cruiser کی قیمتوں میں کمی

دوسری جانب ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی (IMC) نے لینڈ کروزر LC300 اور LC250 ماڈلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔ نئی ایکس-فیکٹری قیمتیں یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہو چکی ہیں۔

نئی قیمتوں کے تحت لینڈ کروزر LC300 (پٹرول ویرینٹ) میں سب سے بڑی کمی دیکھی گئی ہے، جس کی قیمت 12 کروڑ روپے سے کم ہو کر 9.5 کروڑ روپے ہو گئی ہے، یعنی 2.5 کروڑ روپے کی کمی ہوئی ہے۔

اسی طرح، LC250 سیریز کی قیمتوں میں بھی قابل ذکر تبدیلی کی گئی ہے: ڈیزل ویرینٹ کی قیمت 7.555 کروڑ روپے سے کم ہو کر 6 کروڑ روپے ہو گئی ہے، یعنی 1.555 کروڑ روپے کی کمی ہوئی ہے۔

پٹرول ویرینٹ اب 6.66 کروڑ روپے کے بجائے 5.5 کروڑ روپے میں دستیاب ہے، یعنی 1.16 کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔

نئی اور موجودہ بُکنگز پر لاگو قیمتیں

ٹویوٹا کمپنی نے تمام ڈیلرشپس کو ہدایت دی ہے کہ وہ کسٹمرز کو شفاف انداز میں نئی قیمتوں سے آگاہ کریں۔ یہ قیمتیں یکم جولائی 2025 سے کی گئی تمام نئی اور موجودہ بکنگز پر لاگو ہوں گی۔

Post Views: 2

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں کروڑ روپے روپے سے 000 روپے کی گئی گئی ہے

پڑھیں:

بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟

وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔

ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار

بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔

وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمد

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔

ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘

انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔

’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘

پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔

حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد