وفاق نے 6 ماہ میں سرکاری اداروں کو 333 ارب سبسڈی، 113 ارب گرانٹ، 92 ارب قرضہ دیا، ایکویٹی کی مد میں 77 ارب روپے فراہم کئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسلام آ باد (نیوز ڈیسک ) وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران سرکاری اداروں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق وفاق نے 6 ماہ میں سرکاری اداروں کو 333 ارب سبسڈی، 113 ارب گرانٹ، 92 ارب قرضہ دیا۔
جولائی سے دسمبر 2024ء کے دوران وفاقی حکومت نے سرکاری اداروں کو مجموعی طور پر 616 ارب روپےکی معاونت فراہم کی گئی جو سالانہ بنیادوں پر 42 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ جولائی سے دسمبر 2023ء میں سرکاری اداروں کو 433 ارب روپے کی مجموعی معاونت فراہم کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اسی طرح وفاقی حکومت نے جولائی تا دسمبر 2024ء کے دوران 8 سرکاری اداروں کو 113 ارب 52 کروڑ روپے کی گرانٹ اور 92 ارب روپے قرضہ دیا جبکہ 7 سرکاری اداروں کو77 ارب 50 کروڑ ایکوٹی کی مد میں دیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاور ہولڈنگ کو 66.
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں وفاقی حکومت نے 46 فیصد اضافے کے ساتھ 14 سرکاری اداروں کو 333 ارب روپے کی سبسڈی دی۔
رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ موزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی تادسمبر 2024ء کے دوران ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی 43 ارب57 کروڑ، آئیسکو 42 ارب 14کروڑ، حیسکو 39 ارب 59 کروڑ، فیسکو 39 ارب 89 کروڑ، پاسکو 36 ارب17کروڑ، کوئٹہ الیکٹرک کمپنی کو 32 ارب، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی 27ارب، لیسکو 26ارب، ٹرائبل الیکٹرک کمپنی 14ارب روپے، گوجرا نوالہ الیکٹرک کمپنی 13 ارب، سکھر الیکٹر ک کمپنی 11 ارب، پی بی سی 3 ارب 39 کروڑ، ٹی سی پی کو 1 ارب 66 کروڑ اور یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو ایک ارب 68 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرکاری اداروں کو رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کے دوران فراہم کی ارب روپے روپے کی کی گئی
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟