قومی ایئرلائن کو گزشتہ برس 4.6 ارب کے خسارے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
وزارت خزانہ کی جاری وفاقی سرکاری اداروں کی ششماہی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو گزشتہ سال 4.6 ارب روپے کا خسارہ ہوا جبکہ 26 ارب روپے کا منافع محض اکاؤنٹنگ ہنر مندی کا نتیجہ تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کے مالیاتی کھاتے میں 30 ارب روپے کا "ڈیفرڈ ٹیکس ایسٹ" شامل کیا گیا۔ وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ یہ اکاؤنٹنگ نفع ہے اور اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ایئر لائن منافع بخش ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کو ازسرنو ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کے تحت 660 ارب روپے کے قرضوں سے نجات دلائی گئی، جس سے طویل المدتی مالیاتی بوجھ میں نمایاں کمی آئی تاہم اس کے باوجود ایئرلائن کو سال بھر میں 4.
رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ سروس کی لاگت بدستور بلند ہے، جو کہ 106.6 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ انتظامی اخراجات 8.3 ارب اور ترسیلی اخراجات 8.2 ارب روپے رہے۔ مزید یہ کہ غیر ملکی کرنسی میں 2.3 ارب روپے کا تبادلہ نقصان ہوا۔
وزارت خزانہ نے تجویز دی ہے کہ پی آئی اے کی کارکردگی پر مبنی انسانی وسائل کا ماڈل اور بین الاقوامی معیار پر مبنی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ وزارت نے پی آئی اے کو نجکاری کیلیے جلد اقدامات کی بھی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی کوشش کی ناکامی کے بعد اب دوسری کوشش کے تحت چار پارٹیاں شارٹ لسٹ کی گئی ہیں، پی آئی اے کو مالیاتی شفافیت، بروقت آڈٹ اور گورننس کے حوالے سے بھی شدید مسائل کا سامنا ہے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پی آئی اے نے اپنے کھاتے سے قرضوں اور غیر متعلقہ اثاثوں کو علیحدہ کر کے ایک "ہولڈنگ کمپنی" کے حوالے کر دیا ہے، جس سے اس کی مالی حالت بہتر ہوئی ہے، مگر اب بھی اسے حقیقی اصلاحات، نجکاری اور اسٹرٹیجک شراکت داری کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ ادارہ مالیاتی خود مختاری حاصل کر سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب روپے کا پی ا ئی اے رپورٹ میں
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ