26 لاکھ ٹن چینی ذخیرہ ہوچکی کریک ڈاؤن ہو تو قیمت 150 ہوجائیگی، ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
کراچی:
اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے چینی کی درآمدات کی مخالفت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ کارگر ثابت ہوا ہے نتیجے میں چینی کی تھوک وخوردہ قیمتوں میں اضافے کا تسلسل گزشتہ 2 روز سے رک گیا۔
ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین عبدالروف ابراہیم نے ایکسپریس کو بتایا کہ چینی کی ریٹیل قیمت 200 روپے سے کم ہوکر 195 روپے کی سطح پر آگئی، چینی کی فی کلو گرام تھوک قیمت بھی 185 روپے سے کم ہوکر 178روپے تا 180روپے پر آگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مافیا اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف عملی طور پر کریک ڈاؤن کا آغاز کرے تو تھوک مارکیٹوں میں فی کلوگرام چینی مزید 30 روپے سستی ہوسکتی ہے کیونکہ کریک ڈاؤن کی صورت میں منافع خوری اور اسمگلنگ کے لیے 26 لاکھ ٹن ذخیرہ کی گئی چینی مارکیٹ میں لائی جاسکتی ہے جسکے نتیجے میں فی کلوگرام چینی کی تھوک قیمت 150روپے کی سطح آسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی ضروریات کے نام پر چینی کی درآمدات کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ہے، ملک کو اس وقت زرمبادلہ کی شدید ضرورت ہے لہذا ان حالات میں اگر حکومت کی جانب سے چینی درآمد کی گئی تو ملک کا 26کروڑ 50لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کا قیمتی ذرمبادلہ ضائع ہوجائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔