پٹرول 2.43، ڈیزل 3.02، مٹی کا تیل 3.43 روپے لٹر مہنگا
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ +نمائندہ خصوصی + اپنے سٹاف رپورٹر سے) حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں دو روپے 43 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 02 پیسے لٹر اضافہ ہو گیا۔ اضافے کے بعد پٹرول 265 روپے 45 پیسے اور ڈیزل 278 روپے 44 پیسے لٹر ہو گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق ہو گیا۔ ادھر اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں پانچ روپے 89 پیسے فی کلو کمی کر دی۔ گیارہ اعشاریہ 8 کلو کا گھریلو سلنڈر 69 روپے 44 پیسے مزید سستا ہوگیا۔ ایل پی جی کے گیارہ اعشاریہ 8 کلو سلنڈر کی نئی قیمت دو ہزار 378 روپے 89 پیسے ہوگئی ہے۔ ایل پی جی کی قیمت میں پانچ روپے 89 پیسے کمی سے نئی فی کلو قیمت 201روپے 60 پیسے مقرر کی گئی ہے۔مٹی کا تیل تین روپے 34 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل ایک روپیہ 22 پیسے مہنگا ہو گیا۔ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 185 روپے 05 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 163 روپے 98 پیسے لٹر مقرر کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی قیمت میں پیسے اور ہو گیا
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔