اسلا م آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13جون 2025)اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کرنے کے بعد پاکستان نے اپنے شہریوں و زائرین کی حفاظت کیلئے کرائسز مینجمنٹ یونٹ قائم کر دیا،پاکستان نے اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں موجود پاکستانی زائرین کی حفاظت کیلئے اقدامات شروع کردئیے ہیں،ایران میں پاکستانی زائرین اور شہریوں کیلئے ہیلپ لائن قائم کر دی گئی۔

تہران میں کرائسز مینجمنٹ یونٹ 24 گھنٹے کھلا رہے گا۔نائب وزیراعظم نے تہران میں پاکستان سفارتخا نے کو بھی کمیونٹی اور زائرین کوسہولیات دینے کی ہدایت جاری کر دی ان کاکہناہے کہ تہران میں پاکستانی سفارتخانے سے 00982166941388  پر رابطہ کیاجا سکتا ہے۔تہران میں پاکستانی سفارت خانے کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پاکستانی شہریوں اور زائرین کو تمام سہولیات فراہم کرے۔

(جاری ہے)

اس سلسلے میں سفارت خانے کا ہاٹ لائن نمبر بھی جاری کیا گیا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحا ق ڈار کے مطابق ایران میں موجودپاکستانی زائرین کی حفاظت کیلئے اقدامات کررہے ہیں اور زائرین کی مدد کیلئے وزارت خارجہ میں کرائسز مینجمنٹ  یونٹ قائم کردیا گیا ہے۔اسحاق ڈار کاکہناہے کہ زائرین کی مددکیلئے کرائسز مینجمنٹ یونٹ 24 گھنٹے فعال رہیگا۔ تہران میں پاکستانی سفارتخانے کو معاونت فراہم کرنے کیلئے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

ایران میں موجود پاکستانی شہری مدد کیلئے رابطہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں اپنے شہریوں  و زائرین کی حفاظت اور سہولت یقینی بنانے کیلئے ہم نے وزارت خارجہ میں کرائسز مینجمنٹ یونٹ کو فعال کردیا ہے جو ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے کام کرے گا۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران میں موجود پاکستانی شہریوں اور زائرین کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

حکومت ایران میں مقیم اپنے شہریوں کی سلامتی یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اسرائیلی حملے کے بعد پاکستانی شہریوں اور زائرین کی سہولت کیلئے وزارت خارجہ میں کرائسز مینجمنٹ یونٹ کو فعال کردیا گیا ہے۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں ایران پر اسرائیل کے بلاجواز حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کارروائی کو ایرانی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

پاکستان ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس گھناؤنے اقدام نے بین الاقوامی قانون کی بنیادوں کے ساتھ ساتھ انسانیت کے ضمیر کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے اور علاقائی استحکام و بین الاقوامی سلامتی کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔اسرائیلی حملے علاقائی و عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ، مشکل کی گھڑی میں ایران کیساتھ ہیں۔
.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے زائرین کی حفاظت کیلئے کرائسز مینجمنٹ یونٹ تہران میں پاکستان پاکستانی شہریوں میں پاکستانی اور زائرین ایران میں

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا