Express News:
2026-06-03@05:31:54 GMT

کراچی میں انتہائی گرم دن ریکارڈ، پارہ 39.1 ڈگری جاپہنچا

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

کراچی:

شہر قائد میں جمعہ کو انتہائی گرم و مرطوب دن ریکارڈ ہوا، پارہ 39.1 ڈگری رہا، نمی کا تناسب 70 فیصد تک بڑھنے کے سبب اصل درجہ حرارت سے زیادہ گرمی محسوس ہوئی، دیہی سندھ کے جیکب آباد میں پارہ 50 ڈگری سے تجاوز کرگیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بھارتی گجرات پر سائیکلونک سرکولیشن کے زیراثر شہر میں جمعہ کو انتہائی گرم و مرطوب دن ریکارڈ ہوا جس کے دوران دوپہر کے وقت کم رفتار سمندری ہواؤں کی وجہ سے شدید گرمی محسوس کی گئی۔

محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ شہر کے سرکاری ڈیٹا ریکارڈ کرنے کے حامل ویدر اسٹیشن (اولڈ ائیرپورٹ) پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39.

1 ڈگری رہا، نمی کا تناسب انتہائی اضافے سے70فیصد تک تجاوزکرنے کے سبب اصل درجہ حرارت سے کئی ڈگری زیادہ گرمی محسوس کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے دیگر ویدر اسٹیشن پرسب سے زیادہ درجہ حرارت گلستان جوہر ویدر اسٹیشن پر 40 ڈگری جبکہ جناح ٹرمینل پر39.9ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈہوا، دیہی سندھ کےمختلف اضلاع بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہے۔

سب سے زیادہ درجہ حرارت جیکب آباد میں معمول سے 6.2 ڈگری اضافے سے 50.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔

ارلی وارننگ سینٹر کی پیش گوئی کے مطابق ایک مغربی سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں پر اور مرطوب ہوائیں سندھ کے مشرقی حصوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں جس کے نتیجے میں کراچی کا موسم اگلے 3 روز کے دوران گرم و مرطوب رہنے کا امکان ہے۔

اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36تا38 ڈگری کے درمیان رہنے کی توقع ہے، صبح کے وقت نمی کاتناسب 80جبکہ شام کے وقت 65فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

نمی کا تناسب بڑھنے کے نتیجے میں گرمی کی شدت اصل درجہ حرارت سے زیادہ محسوس کی جاسکتی ہے آج گھوٹکی، سکھر، جیکب آباد، تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص اور سانگھڑ میں چند مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، صوبہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم/ شدید گرم اور خشک ریکارڈ ہوسکتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سے زیادہ درجہ حرارت سندھ کے

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر