ایران کے خلاف صیہونی جارجیت، مسجد جمکران میں سرخ پرچم لہرا دیا گيا، انتقام یقینی
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
قم سے تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف صیہونی جارحیت کے بعد جمعہ کی صبح زائروں اور مسجد جمکران کے ذمہ داروں کی موجودگی میں انتقام کی علامت کے طور پر سرخ پرچم مسجد کے فیروزی گنبد پر لہرا دیا گیا اور عوام نے صیہونی حکومت سے انتقام کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کے مقدس شہر قم کی معروف مسجد جمکران میں " یا لثارات الحسین" کے نعرے کے ساتھ سرخ پرچم لہرا دیا گيا ہے جس کے بعد عوام نے صیہونی حکومت سے سخت انتقام کا مطالبہ کیا ہے۔ قم سے تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف صیہونی جارحیت کے بعد جمعہ کی صبح زائروں اور مسجد جمکران کے ذمہ داروں کی موجودگی میں انتقام کی علامت کے طور پر سرخ پرچم مسجد کے فیروزی گنبد پر لہرا دیا گیا اور عوام نے صیہونی حکومت سے انتقام کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
جمکران مسجد کے علاوہ ایران کے مختلف شہروں میں عوام نے مظاہرے کر کے صیہونی حکومت کے خلاف کارروائی کا پرزور مظاہرہ کیا ہے۔ ایران کے اعلیٰ حکام نے صیہونی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
قدس کی غاصب اور جابر صہیونی حکومت نے آج صبح ایران کے مختلف علاقوں، خاص طور پر دارالحکومت تہران کے رہائشی علاقوں پر فضائی جارحیت کی۔ جس میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر جنرل سلامی اور ایٹمی سائنسدانوں سمیت متعددعام شہری شہید و زخمی ہوگئے۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صیہونی حکومت نے صیہونی ایران کے لہرا دیا عوام نے کے خلاف کیا ہے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔