data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے لیے آئی ایم ایف فنڈنگ رکوانے کی کوشش کی، تاہم یہ کوشش ناکام رہی اور پاکستان کے لیے 700 ملین ڈالر کی منظوری دے دی گئی۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ گزشتہ روز آئی ایم ایف بورڈ اجلاس کے دوران بھارتی نمائندے نے اجلاس روکنے کی کوشش کی لیکن بھارت کی مداخلت کے باوجود ورلڈ بینک کے ووٹ کی مدد سے آئی ایف سی نے پاکستان کے لیے فنانسنگ منظور کی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ میں آنے کی امید ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، پورے سال یہ شور مچتا رہا کہ منی بجٹ آنے والا ہے لیکن ہم نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا، بلکہ معاشی استحکام کے لیے توانائی اور ریاستی اداروں (SOEs) میں اصلاحات کی ہیں۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اگرچہ رواں مالی سال میں نجکاری کے شعبے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، لیکن اگلے مالی سال کے دوران اس میں بہتری لائی جائے گی، تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کیا گیا ہے اور تعمیراتی شعبے میں ٹرانزیکشن ٹیکسز میں کمی کی گئی ہے۔

زرعی ٹیکس سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارا بینچ مارک تھا، وزیراعظم کی ہدایت پر ہم نے زرعی ٹیکس پر مؤقف واضح کیا اور خوشی کی بات ہے کہ آئی ایم ایف نے ہماری بات مان لی، رواں مالی سال کے دوران برآمدات میں 7.

8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سیکرٹری تجارت کے مطابق، گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے 11 ماہ میں برآمدات 30 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی ہیں، جو گذشتہ مالی سال کی 29 ارب ڈالر کی برآمدات سے زیادہ ہے۔

اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بھی تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے  کہا کہ رواں مالی سال 7100 ارب روپے کے ٹیکس گیپ کی نشاندہی ہوئی ہے۔ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8 فیصد سے بڑھا کر 10.5 فیصد تک لایا گیا ہے، جو اب بھی عالمی معیار سے کم ہے۔ بھارت نے اپنا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 13.4 فیصد سے بڑھا کر 18.5 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف 5 فیصد افراد ٹیکس دیتے ہیں، اور مینوفیکچرنگ سیکٹر سے 3100 ارب روپے کا ٹیکس حاصل نہیں ہو رہا۔ انہوں نے بتایا کہ چاغی کے سرحدی علاقے سے اسمگلنگ ہو رہی ہے جس سے ہر سال تقریباً 500 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے اسکریپ سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسکریپ کے نام پر غیر معیاری میٹریل منگوایا جا رہا تھا، جس پر پابندیاں لگائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے بعد سے کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں اور ہمارے تجارتی معیارات کو بین الاقوامی سطح کے مطابق بنانا ضروری ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال مالی سال کے آئی ایم ایف کے لیے

پڑھیں:

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

یہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثر

یہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔

دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔

نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعمل

امریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔

برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔

جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔

دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی

دریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔

امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ