بینک سے کیش نکالنے پر کتنا ٹیکس ادا کرنا ہوگا؟ ایف بی آر کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
بینک سے کیش نکالنے پر کتنا ٹیکس ادا کرنا ہوگا؟ ایف بی آر کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بتایا ہے کہ نان فائلر بینک سے کیش نکالے گا تو 0.8 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کٹے گا۔ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ میں بتایا کہ پہلے جب نان فائلر کی جانب سے بینک سے کیش نکلوانے پر 0.
چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ اس حد کو 50 ہزار سے بڑھایا جائے، جس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ حد 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 75 ہزار کر دیتے ہیں۔اراکین کمیٹی نے سفارش کی کہ کیش کی حد ایک لاکھ تک کی جائے، جس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ مجھے ایک لاکھ روپے والا ویسے ہی امیر لگتا ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے نان فائلر کی کیش نکلوانے کی حد 75 ہزار روپے کرنے کی سفارش کردی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران، اسرائیل کشیدگی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ایران، اسرائیل کشیدگی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ خیبرپختونخوا کا 2119 ارب کا سرپلس بجٹ پیش، تنخواہیں پنشن بڑھادی گئیں انجینئر ز ہائوسنگ سکیم کے لے آئوٹ پلان میں بے قاعد گیاں،سی ڈی اے نے شوکاز نوٹس جاری کر دیا،کاپی سب نیوز پر بھارت کی جانب سے آئی ایم ایف فنڈنگ روکنے کی ایک اور کوشش ناکام بھارتی حکمران جماعت بی جے پی اندرونی خلفشار کا شکار اور دھڑوں میں تقسیم سندھ کا 34 کھرب 51 ارب روپے کا بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی قائمہ کمیٹی بینک سے کیش ایف بی آر
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔