بھارت کی جانب سے آئی ایم ایف فنڈنگ روکنے کی ایک اور کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
بھارت کی جانب سے آئی ایم ایف فنڈنگ روکنے کی ایک اور کوشش ناکام WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا ہے کہ بھارت کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان کے لیے آئی ایم ایف فنڈنگ روکنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم یہ کوشش بھی ناکام رہی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت ہوا، جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بجٹ پر بریفنگ دی اور بتایا کہ آئی ایم ایف بورڈ اجلاس کے وقت بھارتی ڈائریکٹر نے اجلاس روکنے کی کوشش کی۔وزیر خزانہ نے بریفنگ میں بتایا کہ کل بھارت نے پاکستان کے لیے فنڈنگ روکنے کی ایک اور کوشش کی،
تاہم بھارت کی کوشش کے باوجود پاکستان کے لیے 700 ملین ڈالر منظور ہوگئے۔ ورلڈ بینک کے ووٹ سے آئی ایف سی نے فنانسنگ منظور کی۔محمد اورنگزیب کا بریفنگ میں کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ رواں مالی سال سنگل عدد میں آنے کی امید ہے۔ پورے سال یہ ڈھنڈورا پیٹا جاتا رہا کہ منی بجٹ اب آیا کہ اب آیا۔ آزاد چیمبرز اور آزاد سروے کہہ رہے ہیں کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔ ہم نے انرجی اور ایس او ایز اصلاحات میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں نجکاری میں ہمیں ناکامی ہوئی۔ اگلے مالی سال کے دوران نجکاری میں کامیاب ہوں گے۔ ہم نے تنخواہ دار طبقے کے بوجھ کو کم کیا ہے۔ تعمیراتی شعبے میں ٹرانزیکشن ٹیکسز میں کمی کی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ بینچ مارک تھا کہ زرعی ٹیکس اس سال سے نافذ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ زرعی ٹیکس پر وزیراعظم کی ہدایت پر ہم نے آئی ایم ایف سے بات کی اور شکر ہے کہ زرعی ٹیکس پر آئی ایم ایف نے ہماری بات مانی ہے۔ رواں مالی سال ںرآمدات میں 7.
سیکرٹری تجارت نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال 29 ارب ڈالر کی برآمدات تھیں۔ رواں مالی سال 11 ماہ میں برآمدات 30 ارب ڈالر کی ہیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ایل سیز کھل رہی ہیں اگر ایل سیز نہیں کھل رہیں تو بتایا جائے۔ سویپنگ بیانات نہیں دینے چاہییں۔ اسٹیٹ بینک کے افسران یہاں بیٹھے ہیں، ان کو سب معلوم ہے۔اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال 7100 ارب روپے کے ٹیکس گیپ کی نشان دہی کی گئی۔ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں دوسرے ملکوں سے نیچے ہے۔ رواں سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 8 فیصد سے بڑھا کر 10.5 فیصد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت 13.4 فیصد سے 18.5 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب لے کر گیا ہے۔ پاکستان میں 5 فیصد افراد نے ہی ٹیکس دینا ہے۔ 5 فیصد لوگوں نے جو ٹیکس دینا ہے وہ نہیں دے رہے ہیں۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے والے 3100 ارب روپے کا ٹیکس نہیں آتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی حکمران جماعت بی جے پی اندرونی خلفشار کا شکار اور دھڑوں میں تقسیم بھارتی حکمران جماعت بی جے پی اندرونی خلفشار کا شکار اور دھڑوں میں تقسیم سندھ کا 34 کھرب 51 ارب روپے کا بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ گردوں کے ڈائلیسس کی دوا بارے گمرہ کن دعوے ،، فارما کمپنی کو 20 لاکھ جرمانہ ،، کونسی کمپنی کو جرمانہ ہوا، کسی دوائی... ایران کے پاس وقت کم ہے، ورنہ کچھ نہیں بچے گا، ٹرمپ کی دھمکی خیبر پختونخوا میں بجٹ اجلاس کے معاملے پر حکومت اور گورنر آمنے سامنے آ گئے ایران پر اسرائیلی حملے: پی آئی اے نے فلائٹ پلان تبدیل کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فنڈنگ روکنے کی آئی ایم ایف بھارت کی
پڑھیں:
بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار
بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔
وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمداس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔
ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔
’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔
حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز