ریکوڈک میں 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے سونے اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں، ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
پاکستان کے معدنی خزانوں میں چھپی دولت اب دنیا کی توجہ حاصل کرنے لگی ہے۔ ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے علاقے ریکوڈک میں 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جو نہ صرف ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بھی بنتے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں معدنی سرمایہ کاری کے مواقع” کے موضوع پر منعقدہ نیچرل ریسورس اینڈ انرجی سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے قیام کے بعد ملک میں کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا عمل تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور توقع ہے کہ 2030 تک اس شعبے کی آمدنی 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔
معدنی ترقی سے پسماندہ علاقوں میں خوشحالی ممکن
لکی سیمنٹ اور لکی کور انڈسٹریز کے چیئرمین سہیل ٹبہ نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کی تشکیل کے بعد اب ملک میں معدنی وسائل پر سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صرف چاغی میں تقریباً 1.
ان کا کہنا تھا کہ اگر کان کنی کے چند منصوبے کامیابی سے ہمکنار ہو جائیں تو ملک بھر میں معدنی لائسنس اور لیز کے حصول کے لیے سرمایہ کاروں کی قطاریں لگ جائیں گی۔ اس شعبے کی ترقی نہ صرف دور افتادہ علاقوں میں خوشحالی لا سکتی ہے بلکہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
عالمی مارکیٹ میں دھاتوں کی طلب، لیکن پاکستان کا کردار محدود
نیشنل ریسورس کمپنی کے سربراہ شمس الدین نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر اس وقت دھاتوں کی شدید مانگ ہے، لیکن پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک میں 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا سونا اور تانبا موجود ہے، جبکہ سونے اور تانبے کی ٹیتھان بیلٹ ترکی، ایران اور افغانستان سے ہوتی ہوئی پاکستان تک آتی ہے، جو اسے خطے کے ایک اسٹریٹیجک مقام پر فائز کرتی ہے۔
شمس الدین کے مطابق اس وقت پاکستان کان کنی سے صرف 2 ارب ڈالر کما رہا ہے، لیکن آئندہ چند سالوں میں یہ آمدنی 6 سے 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، بشرطیکہ ملکی اور سیاسی استحکام برقرار رہے۔
سرمایہ کاری کا پھل دیر سے مگر فائدہ دیرپا
سمٹ میں شریک فیڈینلٹی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو حسن آر محمد نے کہا کہ کان کنی کے فروغ کے لیے انشورنس اور مالیاتی اداروں کو بھی میدان میں آنا ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان کی مالیاتی صنعت کو بڑے معدنی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا ہوگا بلکہ افرادی قوت اور وسائل کی درست منصوبہ بندی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا کہ کان کنی میں کی جانے والی سرمایہ کاری کا فائدہ فوری نہیں ہوتا بلکہ اس کا پھل 10 سال کے بعد ملتا ہے، مگر یہ فائدہ دیرپا اور قومی معیشت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری ارب ڈالر سے کان کنی کے لیے
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔