ٹیکس دینے والوں سے مزید ٹیکس لینے کی تیاری،فنانس بل 2025 کے تحت نان فائلرز پر 50 ہزار جرمانہ عائد ہوگا،چیئرمین ایف بی آر
وِد ہولڈنگ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے پر جرمانے کی رقم میں دس گنا اضافہ تجویز،ہر خلاف ورزی پر 10 لاکھ کا جرمانہ عائد کیا جائے گا

وفاقی حکومت کے نئے مجوزہ قانون فنانس بل کے تحت ان افراد پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکے گا جو مقررہ وقت پر اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائیں گے۔فنانس بل 2025 میں تجویز کردہ اِن تبدیلیوں کا مقصد ٹیکس چوری کی روک تھام، نقد لین دین کی حوصلہ شکنی اور معیشت کی مکمل دستاویز بندی کو فروغ دینا ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیٔرمین رشید محمود لانگریال نے بتایا ہے کہ محصولات میں اضافے کے لیے نفاذ ہی واحد مثر راستہ ہے اور اس مقصد کے لیے نئے ٹیکسوں پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔اہم ترامیم میں سے ایک یہ ہے کہ وِد ہولڈنگ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے پر جرمانے کی رقم میں دس گنا اضافہ کیا گیا ہے، جو 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کردی گئی ہے۔ایک بھاری جرمانہ آن لائن مارکیٹ پلیسز کے لیے تجویز کیا گیا ہے، جو ایسے غیر رجسٹرڈ، غیر مقیم فروشندگان کو ای کامرس کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر آرڈر کی گئی اشیا فروخت کرنے کی اجازت دیتی ہیں، جو سیلز ٹیکس ایکٹ اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت مناسب رجسٹریشن کے بغیر کام کررہے ہیں۔تجویز کردہ فریم ورک کے تحت، پہلی خلاف ورزی پر 5 لاکھ روپے، جب کہ بعد میں ہونے والی ہر خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا، یہ جرمانے آن لائن پلیٹ فارمز اور کورئیر سروسز دونوں پر لاگو ہوں گے، جو ایسی ٹرانزیکشنز کو ممکن بناتے ہیں۔فنانس بل کے مطابق، اگر کوئی بینکنگ کمپنی، پیمنٹ گیٹ وے یا کورئیر سروس فراہم کنندہ فروشندگان کو ادائیگی کے وقت ٹیکس کی کٹوتی کرنے میں ناکام رہتا ہے یا کٹوتی شدہ ٹیکس حکومت کو جمع نہیں کراتا، تو اس پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کے تحت

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم