جاز پر 22 ارب روپے کا جرمانہ، تاریخی عدالتی فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف بی آر کے حق میں فیصلہ سنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک بڑے اور تاریخی فیصلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے معروف ٹیلی کام کمپنی جاز کو 22 ارب روپے (تقریباً 78 ملین امریکی ڈالر) ٹیکس ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ کیس 2018 میں کمپنی کے اندر ہونے والی اثاثہ جات کی تنظیمِ نو سے شروع ہوا تھا، جس کے تحت جاز نے اپنی پورے ملک میں پھیلی ہوئی ٹاور انفراسٹرکچر کو ایک مکمل زیرِ ملکیت ذیلی کمپنی کے حوالے کیا۔ اس لین دین کی مالیت 98.
جاز نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ لین دین انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 97(1) کے تحت ٹیکس سے مستثنیٰ ہے، کیونکہ یہ گروپ کے اندر اثاثہ منتقلی ہے۔ تاہم، عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ لین دین مارکیٹ ویلیو پر کیا گیا اور کمپنی نے اس ویلیو کو تسلیم بھی کیا، لہٰذا اس پر ٹیکس لاگو ہوگا۔
فیصلے میں جسٹس بابر ستار نے واضح کیا کہ جاز کی جانب سے مارکیٹ ویلیو پر اثاثے کی منتقلی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا منافع، سیکشن 97 کی بنیادی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کمشنر انکم ٹیکس، حسابی منافع کی بنیاد پر ٹیکس لاگو کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
ایف بی آر کی یہ کامیابی وزیراعظم کی اس ہدایت کے مطابق ہے کہ ریاستی محصولات سے متعلق مقدمات کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔ ایف بی آر کے چیئرمین رشید محمود اور ممبر لیگل (آئی آر) میر بادشاہ خان وزیر کی قیادت میں قانونی ونگ نے مقدمات کی پیروی کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں اربوں روپے کی ریکوری عمل میں آئی ہے۔
اس اہم کیس میں ایف بی آر کی نمائندگی محترمہ عاصمہ حمید (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ) اور ڈاکٹر اشتیاق احمد خان (ڈائریکٹر جنرل لاء) نے کی۔
عدالت نے ایک اور علیحدہ کیس میں، جو اسی ٹیلی کام کمپنی کی جانب سے فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت جاری کیے گئے شو کاز نوٹس کے خلاف دائر کیا گیا تھا، بھی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے کمپنی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے اسے ہدایت کی کہ یہ رقم چار ہفتے کے اندر اندر ڈپٹی کمشنر-آئی آر، ایل ٹی او، اسلام آباد کو ادا کی جائے۔
ٹیک جوس کی جانب سے جب جاز سے اس عدالتی فیصلے پر باضابطہ ردعمل کے لیے رابطہ کیا گیا تو کمپنی نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
مزیدپڑھیں:پاک بھارت کشیدگی،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پھرمیدان میںآگئے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اسلام آباد ایف بی آر ارب روپے عدالت نے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔