Express News:
2026-06-03@03:14:18 GMT

حکومت سندھ نے سرکاری جامعات کی گرانٹ 40 ارب روپے کردی 

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

حکومت سندھ نے مالی سال 2025/26 کے لیے صوبے کی سرکاری جامعات کی گرانٹ میں 15 فیصد اضافہ کردیا جس کے بعد اب گرانٹ 34 ارب سے بڑح کر 40 ارب روپے ہوجائے گی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعلی سندھ نے ایچ ای سی کی جانب سے بھیجی گئی سمری کو منظور کرلیا جس کے تحت سندھ کی 32 سرکاری جامعات کی گرانٹ اب 34 بلین روپے سے بڑھ کر 40 بلین روپے ہوگئی ہے۔

گرانٹ کو اضافے کے ساتھ 13 جون کو پیش ہونے والے سندھ کے سالانہ بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گرانٹ میں اضافے کی تجویز این ای ڈی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی کی سربراہی میں قائم کی جانے والی کمیٹی نے کی تھی۔ 

واضح رہے کہ اس اضافے کے ساتھ ہی سندھ کی تمام سرکاری جامعات کی انفرادی گرانٹ میں بھی 15 فیصد اضافہ ہوجائے گا۔

منظوری کے بعد زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کی گرانٹ 2259 ملین روپے ،جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی گرانٹ 1176، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی گرانٹ 1294، سکھر آئی بی اے کی گرانٹ 1916،آئی بی اے کراچی کی 692، جامعہ کراچی 3554، جامعہ سندھ جامشورو کی 3410، این ای ڈی یونیورسٹی 2578 ملین روپے ہوجائے گی۔

اس کے علاوہ مہران انجینئرنگ یونیورسٹی کو 2149 ملین روپے، لیاقت میڈیکل یونیورسٹی 1595 ملین روپے، سندھ مدرسہ الاسلام 684 ملین روپے ، کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی 284 ملین روپے، بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کی 376 ملین روپے گرانٹ ملے گی۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد 498 ملین روپے، داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کی 1812 ملین روپے جبکہ شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور کی 1645 ملین روپے ہوجائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرکاری جامعات کی ملین روپے کی گرانٹ

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ