عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان ہائیکورٹس میں رٹ دائر کرنے کا آئینی حق رکھتے ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی۔

جسٹس وقار احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی رٹ ناقابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل مسترد کیے جاتے ہیں، ہائیکورٹ آئینی اختیارات پر آنکھیں بند نہیں کرسکتی۔

عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان ہائیکورٹس میں رٹ دائر کرنے کا آئینی حق رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے پشاور ہائیکورٹ نے سانحہ دریائے سوات پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا پشاور ہائیکورٹ، کے پی اسمبلی کو مخصوص نشستوں پرحلف سے روکدیا

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وکیل نےکہا درخواست گزاروں کو معلوم نہیں تھا کہ ان پر الزام کیا ہے، وفاق کا مؤقف ناقابل قبول ہے کہ ملزمان کا اپیل کا وقت گزر چکا ہے، اگر فورم موجود نہیں یا وقت گزر چکا ہو تو رٹ ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔

عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت ثابت نہیں کرسکی کہ ملزمان کو فیصلے کی کاپی یا ریکارڈ فراہم کیا گیا، ملزمان کا حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ریکارڈ تک رسائی حاصل کریں، ملزمان کو درکار ریکارڈ اور تفصیلات فراہم کی جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان پشاور ہائیکورٹ

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم