پشاور ہائیکورٹ: ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی درخواست قابل سماعت قرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان ہائیکورٹس میں رٹ دائر کرنے کا آئینی حق رکھتے ہیں۔
پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی۔
جسٹس وقار احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی رٹ ناقابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل مسترد کیے جاتے ہیں، ہائیکورٹ آئینی اختیارات پر آنکھیں بند نہیں کرسکتی۔
عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان ہائیکورٹس میں رٹ دائر کرنے کا آئینی حق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے پشاور ہائیکورٹ نے سانحہ دریائے سوات پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا پشاور ہائیکورٹ، کے پی اسمبلی کو مخصوص نشستوں پرحلف سے روکدیاحکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وکیل نےکہا درخواست گزاروں کو معلوم نہیں تھا کہ ان پر الزام کیا ہے، وفاق کا مؤقف ناقابل قبول ہے کہ ملزمان کا اپیل کا وقت گزر چکا ہے، اگر فورم موجود نہیں یا وقت گزر چکا ہو تو رٹ ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔
عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت ثابت نہیں کرسکی کہ ملزمان کو فیصلے کی کاپی یا ریکارڈ فراہم کیا گیا، ملزمان کا حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ریکارڈ تک رسائی حاصل کریں، ملزمان کو درکار ریکارڈ اور تفصیلات فراہم کی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان پشاور ہائیکورٹ
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔