Islam Times:
2026-07-24@07:22:07 GMT

پاکستان کی حمایت کرنا جرم نہیں ہے، الہ آباد ہائی کورٹ

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

پاکستان کی حمایت کرنا جرم نہیں ہے، الہ آباد ہائی کورٹ

ریاض احمد کے وکیل نے دلیل دی کہ پوسٹ سے ملک کے وقار یا خودمختاری کو ٹھیس نہیں پہنچی، کیونکہ اس میں ہندوستانی جھنڈا، نہ ہی ملک کا نام یا کوئی ایسی تصویر ہے جس سے ہندوستان کی توہین ہوتی ہو۔ اسلام ٹائمز۔ ایک اہم فیصلے میں الہٰ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر کوئی شخص بھارت یا کسی خاص واقعہ کا ذکر کئے بغیر صرف پاکستان کی حمایت کرتا ہے، تو پہلی نظر میں یہ انڈین جسٹس کوڈ (بی این ایس) کی دفعہ 152 کے تحت جرم نہیں بنتا، یہ سیکشن ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے والے جرائم کی سزا دیتا ہے۔ جسٹس ارون کمار سنگھ دیشوال کی بنچ نے 18 سالہ ریاض احمد کو ضمانت دیتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ ریاض احمد پر مبینہ طور پر ایک انسٹاگرام اسٹوری پوسٹ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، جس میں لکھا تھا چاہے جو ہوجائے، وہ سپورٹ تو بس پاکستان کا کریں گے۔ اس بات پر بی این ایس کی دفعہ 152 اور 196 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ریاض احمد کے وکیل نے دلیل دی کہ پوسٹ سے ملک کے وقار یا خودمختاری کو ٹھیس نہیں پہنچی، کیونکہ اس میں ہندوستانی جھنڈا، نہ ہی ملک کا نام یا کوئی ایسی تصویر ہے جس سے ہندوستان کی توہین ہوتی ہو۔

انہوں نے دلیل دی کہ محض کسی ملک کی حمایت کرنا، چاہے وہ ہندوستان کا دشمن ہی کیوں نہ ہو، بی این ایس کی دفعہ 152 کے تحت نہیں آتا۔ وکیل نے یہ بھی بتایا کہ کیس میں چارج شیٹ پہلے ہی داخل کی جا چکی ہے، اس لئے حراست میں پوچھ گچھ کی ضرورت نہیں ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے انسٹاگرام آئی ڈی کے ذریعے کی گئی اس طرح کی پوسٹس علیحدگی کو فروغ دیتی ہیں۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ ریاض نے ایسی کوئی پوسٹ نہیں کی جس سے بھارت کی بے عزتی ہو۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی واقعے یا بھارت کا نام لئے بغیر محض پاکستان کی حمایت کرنا، بنیادی طور پر بھارت کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کا جرم نہیں ہوگا۔

عدالت نے عمران پرتاپ گڑھی بمقابلہ ریاست گجرات میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ سوچ اور اظہار کی آزادی ہمارے آئین کے بنیادی نظریات میں سے ایک ہے۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ دفعہ 152 ایک نئی شق ہے جس میں سخت سزا دی گئی ہے، اس لئے اسے احتیاط سے لاگو کیا جانا چاہیئے۔ بنچ نے کہا کہ دفعہ 152 کو لاگو کرنے سے پہلے معقول شخص کی احتیاط اور معیارات کو اپنانا چاہیئے، کیونکہ سوشل میڈیا پر بولے جانے والے الفاظ یا پوسٹ بھی آزادیٔ اظہار کے تحت آتے ہیں، جن کی مختصر تشریح نہیں کی جانی چاہیئے، جب تک کہ یہ ایسی نوعیت کی نہ ہو جو کسی ملک کی خودمختاری اور سالمیت کو متاثر کرتی ہو یا علیحدگی کو فروغ دیتی ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ریاض احمد نے کہا کہ کی حمایت کے تحت

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن