data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پریاگ راج: بھارتی الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک حکم جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو عورت بغیر کسی معقول وجہ کے اپنے شوہر اور سسرال والوں سے الگ رہنے کا انتخاب کرتی ہے، وہ کفالت کی حقدار نہیں ہے۔جمعہ کو ہائی کورٹ نے میرٹھ فیملی کورٹ کے شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑے میں بیوی کو ماہانہ کفالت دینے کے حکم کو پلٹ دیا۔

 میرٹھ کے ایک رہائشی وپل اگروال کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے، جس نے فیملی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا، جسٹس سبھاش چندر شرما نے یہ حکم دیا کہ اگر کوئی عورت بغیر کسی معقول وجہ کے شوہر سے دور رہتی ہے تو وہ کفالت کا دعوی نہیں کر سکتی۔اطلاعات کے مطابق اگروال کے وکیل رجت ایرن نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مو ¿کل کی بیوی نشا اگروال اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ ازدواجی گھر چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی ہیں۔ بار بار کی درخواستوں اور ثالثی کی کوششوں کے باوجود، اس نے مبینہ طور پر واپس آنے سے انکار کر دیا۔

 وکیل نے مزید دلیل دی کہ اہلیہ نے فیملی کورٹ میں سی آر پی سی کی دفعہ 125 کے تحت کفالت کا مقدمہ دائر کیا، جس میں خود اس کے الگ رہنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ملی۔اس کے باوجود، عدالت نے اسے خالصتاً ہمدردی کی بنیاد پر 8000 روپے ماہانہ دیا، جو اس نے دعویٰ کیا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 125(4) کی خلاف ورزی ہے۔ دلیل کے بعد ہائی کورٹ نے کہا کہ فیملی کورٹ کا حکم مینٹی ننس قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس کے بعد اس نے 17 فروری کے حکم کو منسوخ کر دیا اور میرٹھ فیملی کورٹ کو اس معاملے پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیملی کورٹ ہائی کورٹ

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی