سندھ پولیس نے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کو کافی حد تک کنٹرول کیا ہے، وزیر اعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
فائل فوٹو۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ پولیس نے قانون شکنوں اور دہشت گردوں سے بھرپور مقابلہ کیا ہے، پولیس نے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کو کافی حد تک کنٹرول کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کے افسران نے ملاقات کی اور صوبے امن و امان سے متعلق آگاہ کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ پولیس نظام کو بہتر بنانے کےلیے 164 ارب روپے کا بجٹ دیا ہے، پولیس کی تنخواہوں پر 132 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت جشن آزادی معرکہ حق کی تقریبات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا۔ جس میں ملک کے بینکوں کے صدور/سی ای اوز ممتاز صنعتکاروں اور تاجر برادری کے رہنمائوں نے شرکت کی۔
انکا کہنا تھا کہ سندھ حکومت منشیات کیخلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر رہی ہے، سندھ واحد حکومت ہے جو تھانوں کو براہ راست بجٹ فراہم کرتی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی سمیت دیگر شہروں میں بہترین سڑکیں تعمیر کی ہیں، کراچی کی تمام سڑکیں، نئے فلائی اوورز، انڈر پاسز پیپلز پارٹی کی حکومت نے تعمیر کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک