یا تم رہو گے یا ہم، یا منزل پائیں گے یا سیاست کو خیر باد کہہ دیں گے، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے حکومت کو 90 دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ یا تم رہو گے یا ہم، یا منزل پائیں گے یا سیاست کو خیر باد کہہ دیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے ارکان کو فعال نہ کیا گیا تو ہم اپوزیشن میں بیٹھے ان کے تمام چیئرمینز کو ہٹا دیں گے۔
یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور، جاتی امرا پہنچے، جہاں سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی کے فارم ہاؤس میں ان کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر علی امین نے شرکاء سے خطاب بھی کیا۔
ہر صوبے سے لوگ نکلیں گے، علی محمد خان
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی کا مقصد سیاست نہیں بلکہ ملک کی اصلاح ہے۔ وہ خود مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ان پر سازش ثابت ہو جائے تو جو سزا دی جائے، قبول کریں گے۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان کی اہلیہ قید میں ہیں، اس کے باوجود وہ عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں آؤ بات کرو، دلیل سے بات کرو۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ہماری برداشت کو آزمایا نہ جائے۔ لاہور میں ہمارا قافلہ پُرامن رہا، نہ کسی چیز کو نقصان پہنچایا، نہ ہی کسی قانون کی خلاف ورزی کی۔ لیکن ہمیں بغیر جرم کے سزا دی جاتی ہے، یہ روش مزید نہیں چلے گی۔ اب اگر کسی نے ناجائز طور پر حملہ کیا، تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ میں اپنی جان کا ضیاع خودکشی نہیں سمجھتا، جو مجھے ناجائز مارے گا، اس کا جواب دیا جائے گا۔ گولی مارو گے تو جواب بھی اسی زبان میں دیا جا سکتا ہے۔
کالج طالبہ نےڈیپارٹمنٹ ہیڈ کی جانب سے ہراساں کیے جانے پر خود کو آگ لگالی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: علی امین
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔