ملکی خدمت میں ناکامی کی صورت میں نتائج کے ذمہ دار ہم ہوں گے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں کارکردگی نہ دکھانے والوں کو نہیں جانتا، کارکردگی کی بنیاد پر جانچ کا پیمانہ ہی نئی تبدیلی ہے، اگر ہم ملکی خدمت میں ناکام ہوجائیں تو نتائج کے ذمہ دار ہونگے، عوامی خدمت سے ہی ہم اپنا سر فخر سے بلند کرسکتے ہیں۔
میڈیا ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ’اڑان پاکستان‘ سمر اسکالرز کے لیے منتخب طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام میں ملک کے ہر کونے سے نوجوانوں کی نمائندگی شامل ہے، نوجوان سپر اسٹارز کی کہکشاں سے بہت متاثر ہوا ہوں۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے چیلنجز پر قابو پانے کا کٹھن سفر طے کیا ہے، عوام کی خدمت ہماری ذمہ داری ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ٹیم ورک، عوامی خدمت اور کارکردگی پر یقین رکھتا ہوں، عوامی خدمت کے لیے کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ہمارا فخر ہیں۔
وزیراعظم پاکستان نےکہا کہ ہم نے مشکل حالات میں حکومت سنبھالی، 2023 میں اکثریت کا خیال تھا کہ ملک خدانخواستہ دیوالیہ ہو جائے گا تاہم مجھے یقین تھا کہ ملک ڈیفالٹ نہیں کرےگا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاملات طے پانے پر ہم ڈیفالٹ سے بچ گئے، ہم نے ذمہ داری اٹھائی اور متحد ہوکر آگے بڑھنےکاعزم کیا، اللہ تعالیٰ کے فضل سے پُرخلوص اور سنجیدہ کوششوں سے ٹیم ورک کے ساتھ مثبت نتائج سامنے آئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک سے کرپشن اور سفارش کلچر ختم کر کے میرٹ اور شفافیت کو فروغ دیا ہے، ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن نے حقیقت کا روپ دھار لیا، انفورسمنٹ سے صرف ایک شعبے میں محاصل 12 سے بڑھ کر 50 ارب روپے ہو گئے۔
شہباز شریف کاکہنا تھا کہ حکومت کے مؤثر اقدامات سے اقتصادی شعبے کے اشاریے بہتر ہوئے، پالیسی ریٹ کم ہوکر 11فیصد کرنے سے لوگ بینکوں سے پیسہ نکال کر سرمایہ کاری کریں گے۔
ان کا کہنا تھاکہ ماہرین کی مشاورت سے اُڑان پاکستان پروگرام کو حتمی شکل دینے میں کئی ماہ لگے، اُڑان پاکستان ملکی ترقی اور آگے بڑھنے کا منصوبہ ہے، شرکا کو مختلف شعبوں، وزارتوں اور محکموں میں سیکھنےکاموقع ملےگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہباز شریف تھا کہ کہا کہ
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔