ارشد ندیم میڈل حاصل کرنے میں ناکام، ’کوشش کرکے ہار جانے پر ہم دکھی نہیں‘
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں جیولین تھرو کا فائنل جاری ہے، مگر پاکستان کے ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔
فائنل مرحلے میں ارشد ندیم نے اپنی پہلی تھرو 82.73 میٹر کی، جب کہ دوسری باری میں ان کا تھرو فاؤل قرار پایا۔ تیسری کوشش میں انہوں نے معمولی بہتری کے ساتھ 82.75 میٹر کی تھرو کی، تاہم چوتھی باری میں بھی وہ فاؤل کا شکار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2025: ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر ہوگئے
ارشد ندیم کے فائنل کی دوڑ سے باہر ہونے پر سوشل میڈیا پر صارفین نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا۔ کوئی یہ کہتا نظر آیا کہ وہ اپنی شہرت نہیں سنبھال سکے تو کسی نے کہا کہ آج کا دن آپ کے لیے اچھا نہیں تھا، آپ ابھی بھی ہمارے ہیرو ہیں۔
میاں عمر نے لکھا اس نے اپنی پوری کوشش کی، مگر قسمت نے ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ پاکستان کا فخر ہیں۔
He tried his best, but luck ???? was not on his side.
— Adv. Mian Omer???????? (@Iam_Mian) September 18, 2025
رضوان حیدر نے کہا کہ آج کا دن ارشد ندیم کے لیے اچھا نہیں رہا، امید ہے اگلی بار وہ بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کے نیرج چوپڑا بھی اپنی بہترین فارم میں نظر نہیں آئے۔
Not a good day for Arshad Nadeem. Better luck next time. Neeraj also failed to do his best, but another Indian Yadav and SL Rumesh did well so far. #WorldAthleticsChampionshipsTokyo2025 pic.twitter.com/gmwcAFc60Q
— Rizwan Haider (@razi_haider) September 18, 2025
ایک ایکس صارف نے کہا کہ نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم مقبولیت حاصل کرنے کے بعد اپنی کارکردگی میں تسلسل برقرار نہیں رکھ پا رہے۔ ارشد کا چوتھے راؤنڈ سے باہر ہونا اور نیرج کا پانچویں راؤنڈ سے باہر ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ان میں کچھ کمی ہے۔
Neeraj chopra aur arshad nadeem popularity paane ke baad apne performance me consistency nhi rakh paa rhe… Arshad ka 4th round se bahar hona aur neeraj ka 5th round se bahar hona batata hai ki they lack something… #neerajchopra #Javelin
— Ashutosh (@ashu_minds) September 18, 2025
عشرت فاطمہ لکھتی ہیں کہ ارشد ندیم ورلڈ ایتھلیٹکس جیولین تھرو کے فائنل سے باہر ہو گئے ہیں۔ وہ حال ہی میں ایک بڑی سرجری سے گزرے مگر پھر بھی قوم کو ان سے بڑی امیدیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوشش کر کے ہار جانے پر ہم دکھی نہیں۔ آپ کے ساتھ ہیں۔ارشد ندیم ابھی بھی ہمارے ہیرو ہیں۔ پھر ابھریں گے ،ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
https://Twitter.com/OfficialIshrat/status/1968641887348109710
یاد رہے کہ ارشد ندیم، جو اولمپکس میں گولڈ میڈل بھی جیت چکے ہیں، انجری کے باعث پہلے ورلڈ ایتھلیٹکس سلور ٹور اور پھر ڈائمنڈ لیگ سے دستبردار ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ان کی تمام تر توجہ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ پر مرکوز تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارشد ندیم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ورلڈ ایتھلیٹکس سے باہر ہو ہو گئے کہا کہ
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔