‘دعا کے پاپا’ نے سوشل میڈیا سے آمدنی کی حیران کُن تفصیلات بتادیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسلامی روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیلمی وی لاگنگ سے مشہور ’دعا کے پاپا’ عرف ارشد نے سوشل میڈیا سے غیرمعمولی آمدنی کی حیران کُن تفصیلات بتادیں۔
پاکستان کے دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والے ارشد اپنے فیملی کانٹنٹ کے سبب انتہائی مختصر عرصے میں آج نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے یوٹیوبرز میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔
ارشد اپنے وی لاگ میں تین بچوں بڑی بیٹی زینب، چھوٹا بیٹا محمد اور ایک تیسری بیٹی دعا کیساتھ روز مرہ کی روٹین شیئر کرتے ہیں جبکہ اس دوران انہوں نے اپنی اہلیہ کے پردے کا بھی خاص خیال رکھا ہوا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ کسی بھی بےحیائی کے کانٹنٹ سے گزیز کرنا انکے مداحوں کے دلوں کوخوب بھاتا ہے۔
ارشد نے حال ہی میں نجی ٹی وی کے پوڈکاسٹ شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی آمدنی اور برانڈ پروموشنز کے حوالے سے کھل کر بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ دل کو چھو لینے والے ویڈیوز بناتے ہیں، پورا خاندان ایک ٹیم کے طور پر کام کرتا ہے، جس کی جھلک ان کے ہر ویڈیو میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ارشد نے بتایا کہ وہ ایک برانڈ کی پروموشنل ویڈیو بنانے کے 15 لاکھ روپے چارج کرتے ہیں، یہ ویڈیو بعد ازاں اُن کے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یعنی یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک پر شیئر کی جاتی ہے۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ اگر کسی برانڈ کو صرف کسی ایک مخصوص پلیٹ فارم پر پروموشن کروانی ہو تو اس کا علیحدہ معاوضہ ہوتا ہے جوکہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔
ارشد نے کہا کہ وہ اپنی آمدنی اور چارجز چھپانے میں یقین نہیں رکھتے اور صاف گوئی سے سب کچھ بتاتے ہیں تاکہ دوسرے نئے کنٹینٹ کریئیٹرز بھی حقیقت سے باخبر رہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ ہر ماہ کم از کم 8 سے 10 برانڈ پروموشنز کرتے ہیں، جو اُن کے لئے ایک باقاعدہ ذریعہ معاش بن چکا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Muhammad Arshad (@arshadreels)
ارشد نے مزید بتایا کہ وہ صرف پیسہ کمانے کے لیے کسی بھی برانڈ کے ساتھ کام نہیں کرتے، بعض اوقات وہ چھوٹے کاروباروں کے لیے مفت پروموشن بھی کرتے ہیں تاکہ انہیں سہارا ملے، اس کے علاوہ انہوں نے کچھ ایسے برانڈز کی ویڈیوز بھی ڈیلیٹ کی ہیں جو اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔
ارشد کی اس صاف گوئی اور اصول پسندی کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ارشد نہ صرف ایک اچھے کنٹینٹ کریئیٹر ہیں بلکہ ایک باشعور اور ذمے دار پاکستانی بھی ہیں جو اپنے پلیٹ فارم کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کرتے ہیں بتایا کہ انہوں نے
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔