data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا ہے کہ بھارت کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان کیلیے آئی ایم ایف فنڈنگ روکنے کی کوشش کی گئی ہے تاہم یہ کوشش بھی ناکام رہی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت ہوا جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بجٹ پر بریفنگ دی اور بتایا کہ آئی ایم ایف بورڈ اجلاس کے وقت بھارتی ڈائریکٹر نے اجلاس روکنے کی کوشش کی۔ وزیر خزانہ نے بریفنگ میں بتایا کہ کل بھارت نے پاکستان کے لیے فنڈنگ روکنے کی ایک اور کوشش کی تاہم بھارت کی کوشش کے باوجود پاکستان کیلیے 700 ملین ڈالر منظور ہوگئے۔ ورلڈ بینک کے ووٹ سے آئی ایف سی نے فنانسنگ منظور کی۔ محمد اورنگزیب کا بریفنگ میں کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ رواں مالی سال سنگل عدد میں آنے کی امید ہے۔ پورے سال یہ ڈھنڈورا پیٹا جاتا رہا کہ منی بجٹ اب آیا کہ اب آیا۔ آزاد چیمبرز اور آزاد سروے کہہ رہے ہیں کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔ ہم نے انرجی اور ایس او ایز اصلاحات میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں نجکاری میں ہمیں ناکامی ہوئی۔ اگلے مالی سال کے دوران نجکاری میں کامیاب ہوں گے۔ ہم نے تنخواہ دار طبقے کے بوجھ کو کم کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: روکنے کی

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ