ایران اسرائیل جنگ کا اثر‘ حکومت کے پٹرولیم لیوی ہدف سے محروم ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جون2025ء)وفاقی حکومت رواں مالی سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات پر عائد پٹرولیم لیوی کے ہدف یعنی 1 ہزار 161 ارب روپے کی وصولی سے محروم رہ سکتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ عالمی اور ملکی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تیزی سے اضافہ ہے۔ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز جب اسرائیل نے ایران پر حملے کا آغاز کیا تو چند ہی گھنٹوں بعد عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت 71.
(جاری ہے)
کسٹمز ڈیوٹی میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر کسٹمز ڈیوٹی 14.20 روپے سے بڑھ کر 14.56 روپے فی لیٹر اور پٹرول پر 13.70 سے بڑھ کر 14.10 روپے فی لیٹر ہوجائے گی۔
ڈالر کا اوسط ریٹ بھی بڑھ کر 282.49 روپے متوقع ہے، جو قیمتوں پر مزید دباؤ ڈالے گا۔ یہ تمام تخمینے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی ممکنہ ایڈجسٹمنٹس کو شامل کیے بغیر ہیں۔ اگر پی ایس او ایڈجسٹمنٹس کی اجازت دی گئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔مالی سال 2024-25 کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) میں حکومت صرف 834 ارب روپے کی پٹرولیم لیوی وصولی کر سکی ہے، جو ہدف کا 71 فیصد بنتا ہے۔ جب کہ بجٹ میں 1 ہزار281 ارب روپے کی توقع تھی، نظرثانی شدہ ہدف 1 ہزار 161 ارب روپے رکھا گیا۔ اگلے مالی سال 2025-26 کے لیے 1.4 ٹریلین روپے کی پٹرولیم لیوی کا ہدف مقرر ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ بھی مشکل لگ رہا ہے۔مارچ 16، 2025 کے بعد سے حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے 60 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی کی حد ختم کر کے پٹرول پر 18.02 روپے اور ڈیزل پر 17 روپے فی لیٹر اضافی لیوی عائد کی۔ اوگرا کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس اضافی لیوی سے حکومت کو ہر سہ ماہی میں 90 ارب روپے اور سالانہ 300 ارب روپے کی اضافی آمدن متوقع ہے۔دوسری طرف، آئل مارکیٹنگ کمپنیز (او ایم سیز) کی مئی 2025 میں فروخت میں سالانہ 10 فیصد اور ماہانہ 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 1.53 ملین ٹن رہی۔اوگرا 16 جون سے پہلے کے پندرہ دنوں کے عالمی نرخ، ڈالر ریٹ اور دیگر عوامل کے اعداد و شمار اکٹھے کرے گا، جس کے بعد وزارت خزانہ 15 جون کو پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا حتمی اعلان کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پٹرولیم لیوی روپے فی لیٹر ارب روپے کی سے بڑھ کر 14 کے مطابق کی قیمت
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا