مخالف حکومت کی وجہ سے وفاق خیبر پختونخوا کو نظرانداز کر رہا ہے، مزمل اسلم
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
پشاور:
مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ مخالف حکومت کی وجہ سے وفاق خیبر پختونخوا کو نظرانداز کر رہا ہے۔
پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی کی معاشی پوزیشن مستحکم نہیں رہی، شرح نمود 2،7 تک پہنچ گیا ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ میں خیبر پختونخوا کو نظرانداز کیا گیا، صرف 55 کروڑ روپے رکھے گئے، وفاق کا تعاون نہ ہونے کی وجہ سے ہم نے اپنا ترقیاتی بجٹ بڑھایا۔
مزمل اسلم نے کہا کہ اپنے ذرائع آمدن سے 93 فیصد تک ٹارگٹ حاصل کیا، این ایف سی مد میں 90 ارب روپے کم ملے، صوبے نے اپنے خزانے سے قبائل کو 20 ارب روپے دیے، 70 ارب روپے قبائلی اضلاع کے لیے خرچ کیے وفاق نے نہیں دیے، ہم نے کوئی نیا قرضہ نہیں لیا، پہلے سے قرضے کے لیے جو دستخط کیے تھے وہ قرضہ موصول ہورہا ہے، اگر قرضہ لیا بھی تو بڑے منصوبوں کے لیے لیا جائے گا۔
مشیر خزانہ خیبر پختونخوا نے کہا کہ وفاق کا ایک ہزار ارب کا بجٹ ہے اور ہمارا 547 ارب کا ہے، خیبر کے مطالبے پر گیارہویں این ایف سی کا اجلاس اگست میں بلایا گیا ہے، وزیراعلیٰ نے وفاقی سے صوبے کے بقایاجات کی بات کی، وفاق نے یقین دہانی کرائی ہے ادائیگی کی، وفاق کی جانب سے قبائلی اضلاع کے لیے سالانہ 47 ارب سے زیادہ فنڈز نہیں ملے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق نے پہلی بار قبائلی اضلاع کے لیے 70،4 ارب روپے رکھے ہیں، 170 ارب روپے کا قرضہ اب کا نہیں یہ ماضی کا ہے، قرضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کے فنڈز قائم کیے ہیں، ہم اپنے این ایف سی سے خوش ہیں، ہمارے مسائل کا حل این ایف سی میں ہے، ہم نے وفاق کی شرح کے مطابق تنخواہیں 10 اور پنشن 7 فیصد بڑھائی۔
مزمل اسلم نے کہا کہ نئے مالی سال میں ہم نے 5 سو ارب کی نئی ترقیاتی اسکیمیں شامل کی ہیں، 195 ارب کا ترقیاتی بجٹ ہے، رواں مالی سال میں بندوبستی اضلاع کے لیے 156 میں سے 145 ارب روپے جاری کرچکے ہیں، قبائلی اضلاع کے لیے 41 ارب روپے مختص کیے 26،9 ارب روپے جاری کرچکے ہیں، خیبر پختونخوا کا تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ دیا، جب ہم آئے تھروفارورڈ 10 سال کا تھا ابھی 5،1 تک پہنچ گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قبائلی اضلاع کے لیے مزمل اسلم نے کہا خیبر پختونخوا ترقیاتی بجٹ ایف سی نے کہا کہ ارب روپے
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا