بھارت نے سنگھائی تعاون تنظیم کی جانب سے اسرائیل کے ایران پر حملے کے حوالے سے مذمتی بیان سے دوری اختیار کرلی۔

سابق وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ بھارت ایران پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کرنے سے گریز کر رہا ہے، بھارت کی یہ پالیسی خطے میں اس کے رویے میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نریندمودی اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں امن و استحکام پر زور

یاد رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) نے گزشتہ روز اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کی، تاہم  بھارت نے اس مذمتی بیان سے خود کو الگ کر لیا ہے۔

Remarkable that India would distance itself from the SCO statement on Israel s strike on Iran.

India’s pivot away from the region shows itself in different shapes and forms. Looks like strategic autonomy has its limitations. https://t.co/St7H4N5Y40

— Hina Rabbani Khar (@HinaRKhar) June 14, 2025

بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بحث میں شریک ہی نہیں تھا جس کے نتیجے میں یہ بیان سامنے آیا۔ بھارت نے صرف اتنا کہا کہ اسے خطے میں کشیدگی پر تشویش ہے اور ایران و اسرائیل پر زور دیتا ہے کہ بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ حل کریں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی آباد کاریوں کیخلاف اقوام متحدہ کی قرارداد کے حامیوں میں بھارت بھی شامل

ایس سی او کے دیگر بڑے رکن ممالک، جن میں چین، روس، پاکستان اور ایران شامل ہیں، نے اسرائیل کی کارروائی کو غیر قانونی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کے حملے انسانی جانوں کے ضیاع اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسرائیل ایران بھارت شنگھائی تعاون تنظیم مذمت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایران بھارت شنگھائی تعاون تنظیم تعاون تنظیم بھارت نے ایران پر

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت