جنگ نہیں چاہتے، بھارت نے پانی روکا تو کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
جنگ نہیں چاہتے، بھارت نے پانی روکا تو کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا، بلاول بھٹو WhatsAppFacebookTwitter 0 15 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جنگ نہیں چاہتے، بھارت نے پانی روکا تو کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا، بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے فیصلہ کو واپس لینا پڑے گا۔ پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے،پانی روکنا پاکستان کے وجود کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، پانی ہماری بقا ہے، اپنے حق سے کسی صورت دستبرار نہیں ہوسکتے۔
جرمن نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا فیصلہ واپس لینا پڑے گا، یہ انسانی حقوق کے خلاف ہے، عمل درآمد تو دور کی بات ہے، صرف یہ دھمکی دینا کہ بھارت پاکستان کے پانی کو روکے گا،ا قوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ حق دفاع کی تو دور کی بات یہ تو ہماری بقا کا مسئلہ ہے، اگر ہم اپنے لوگوں کو پینے کے لیے پانی کا فراہم نہ کرسکیں توبطور ریاست ہماری ذمے داری ہے کہ میں انہیں ان کا حق دلواں چاہے اس کے لیے ہمیں جنگ کیوں نہ چھیڑنی پڑے، اور یہی ہماری ریڈ لائن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے بہت سے واقعات ہوتے ہیں جن میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں سب سے بڑا ثبوت کلبھوش یادو کی گرفتاری ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے یہ نہیں کہا کہ اس کی وجہ سے ہم جنگ چھیڑ رہے ہیں لیکن بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرنے پر عمل درآمد کیا تو مجبورا پاکستان کو جنگ کے میدان میں اترنا پڑے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایف بی آرکا یکم جولائی سے ڈیجیٹل پروڈکشن ٹریکنگ سسٹم کے نفاذ میں تیزی لانیکا فیصلہ ایف بی آرکا یکم جولائی سے ڈیجیٹل پروڈکشن ٹریکنگ سسٹم کے نفاذ میں تیزی لانیکا فیصلہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرانے میں ناکام رہے، وزیر دفاع خواجہ آصف ایران اسرائیل جنگ؛ 450 پاکستانی زائرین کا انخلا مکمل کر لیا گیا، نائب وزیراعظم الیکشن کمیشن تقرریوں کا معاملہ، اسپیکر نے کمیٹی بنانے سے انکار کر دیا مشیر اوورسیز پاکستانی غلام مصطفیٰ ملک کا خال، لوئر دیر کا دورہ، نوجوانوں اور عمائدین سے اہم ملاقاتیں بھارت: زائرین کو لیجانے والا ہیلی کاپٹرگرکر تباہ، پائلٹ سمیت 7 افراد ہلاکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت نے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔