Jasarat News:
2026-07-24@03:38:38 GMT

خان پور ڈیم میں پانی کے صرف 25 دن کے ذخائر باقی رہ گئے

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا اور پنجاب میں مسلسل کم بارشوں اور خشک موسم کے باعث پانی کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے، خان پور ڈیم جو راولپنڈی اور اسلام آباد کی آبادی کے بڑے حصے کو پینے کا صاف پانی مہیا کرتا ہے اس میں بھی پانی کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خشک موسم کے باعث خان پور ڈیم میں پانی کے ذخائر انتہائی کم ہو گئے ہیں، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ڈیم میں موجود پانی ڈیڈ لیول سے صرف 11 فٹ دور ہے، پانی میں مسلسل کمی سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے رہائشیوں کو آنے والوں دنوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خان پور ڈیم میں ڈیڈ لیول کی حد ایک ہزار 921 فٹ ہے جبکہ ڈیم میں موجودہ پانی کی سطح ایک ہزا 910 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ڈیم میں روزانہ کی بنیاد پر پانی کی آمد 16 کیوسک جبکہ اخراج 127 کیوسک ہے، جس میں سے 96.

18 کیوسک پانی کیپیٹل ڈیولمپنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ (آر سی بی) کے زیر استعمال ہے۔اگر روزانہ کی بنیاد پر پانی کی آمد اور اخراج میں واضح فرق برقرار رہا تو آئندہ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال مزید ابتر ہوسکتی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خان پور ڈیم ڈیم میں پانی کی

پڑھیں:

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

فوٹو: آن لائن 

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔

 تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔

منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا