پشاور:

پولیس نے 20 سالہ سے پشاور میں ایف سی کی وردیوں میں ڈکیتی کی وارداتیں کرنے والے گینگ کے چار افراد کو ہلاک کردیا جن میں ایک افغانی بھی شامل تھا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق چمکنی میں علی الصباح پولیس اور بدنامِ زمانہ ڈکیت گینگ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں پولیس، ایف سی کی وردی میں ڈکیتیاں کرنے والے خطرناک گروہ کے چار ملزمان مارے گئے۔

پولیس کے مطابق کارروائی پنجاب سی سی ٹی ڈی کی طرز پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس میں کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

ترجمان کے مطابق ہلاک ملزمان گزشتہ 20 سال سے پشاور، راولپنڈی، نوشہرہ اور دیگر اضلاع کی پولیس کو انتہائی مطلوب تھے، ہلاک ڈاکوؤں کی شناخت عبدالغفور عرف غفور ولد اختر محمد، شاہ پور ولد شاہ مہر، جاوید ولد محمد جمال (ساکنان افغانستان) اور سمیع اللہ ولد محمد (سکنہ بیرون گنج) کے ناموں سے ہوئی۔

پولیس کے مطابق یہ گروہ حال ہی میں علاقہ جھگڑا میں ایف سی کی وردی پہن کر ایک ڈاکٹر کے گھر کروڑوں روپے کی ڈکیتی میں ملوث تھا، جس کا مقدمہ تھانہ چمکنی میں علت 2120 مورخہ 19 ستمبر 2025 بجرم 395، 457 درج تھا، اسی گینگ نے 26 اگست 2025ء کو ترناب فارم کے علاقے میں بھی ایک شہری کے گھر سے لاکھوں روپے نقدی اور طلائی زیورات لوٹے تھے۔

کارروائی کے دوران پولیس نے ایک کلاشنکوف، ایک رائفل 223 بور، دو پستول 30 بور، ایک سیڑھی اور دو موٹر سائیکلیں برآمد کرلیں۔

پولیس حکام کے مطابق ہلاک گروہ بین الاضلاعی نیٹ ورک کا حصہ تھا جو وردی پہن کر سرکاری اہلکار ظاہر کرتا اور ڈکیتیوں کی وارداتیں کرتا تھا۔

ترجمان کےمطابق پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کردیا ہے جبکہ باقی مفرور ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایف سی کی کے مطابق

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار