سندھ بلڈنگ ، کھوڑو سسٹم کے بدعنوان افسران غیرقانونی تعمیرات میںمگن
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ذوالفقار بلیدی نے ماڈل کالونی کے رہائشی پلاٹوں پر کمزور عمارتیں تعمیر کروادیں
ماڈل کالونی شیٹ نمبر 3پلاٹ 5/1اور 5/2مین روڈ کے مشترکہ پلاٹوں پر تعمیرات
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں کھوڑو سسٹم میں بدعنوان بلڈنگ افسران کراچی کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے میں مگن ہیں اور ڈی جی اسحاق کھوڑو چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں شہر میں آنے والے زلزلوں میں بنیادی وجہ شہر میں تعمیر کی جانے والی بے ہنگم عمارتیں ہیں ۔ماہرین ارضیات کے مطابق بنیادی ڈھانچے کے بر خلاف تعمیر کی جانے والی عمارتیں کراچی کے مستقبل کے لئے انتہائی تشویشناک ہیں ۔ان کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کی اشد ضرورت ہے المیہ یہ ہے کہ بلڈنگ افسران بذات خود ملکی محصولات کو بھاری نقصان پہنچا کر شہر بھر میں بغیر نقشے اور منظوری کے رہائشی پلاٹوں پر کمزور عمارتوں کا جنگل اگانے میں مگن ہیں تو روک تھام کیسے ممکن ہے۔ جرأت سروے کے دوران یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ ضلع کورنگی کے علاقے شاہ فیصل ٹاؤن ماڈل کالونی میں بھی رہائشی پلاٹوں پر بلند عمارتوں کی تعمیرات کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے۔ خلاف ضابطہ تعمیرات کی حفاظت کا ذمہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی نے اٹھا رکھا ہے اسوقت بھی ماڈل کالونی شیٹ نمبر 3مین روڈ کے پلاٹ نمبر 5/1اور 5/2دو مشترکہ پلاٹوں پر تجارتی مقاصد کے لئے تعمیرات کی جارہی ہیں ۔
جرأت سروے ٹیم کی جانب سے ناجائز تعمیرات پر موقف لینے کے لئے ڈی جی ہاؤس رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہوسکا۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ماڈل کالونی پلاٹوں پر کے لئے
پڑھیں:
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔