ایرانی سپریم لیڈر زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل، اسرائیلی حملوں کے بعد تہران میں ہنگامی صورتحال
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایرانی سپریم لیڈر زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل، اسرائیلی حملوں کے بعد تہران میں ہنگامی صورتحال WhatsAppFacebookTwitter 0 16 June, 2025 سب نیوز
تہران:عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کے تناظر میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اہل خانہ سمیت تہران میں واقع ایک زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں۔
دوسری جانب ایرانی ڈرون لانچنگ کنٹرول روم کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایرانی افسران اسرائیل کی جانب ڈرونز لانچ کرتے ہوئے قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہیں اور اللہ سے نصرت کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ ویڈیو میں ایرانی افسران جذبۂ ایمانی سے لبریز دکھائی دیتے ہیں اور یہ منظر ایرانی قوم کے حوصلے کی عکاسی کرتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی بدستور برقرار ہے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ ”ہم وہی کرتے ہیں جو ہمیں کرنا ہوتا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے“۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تہران سے اسرائیل کو جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کا خطرہ لاحق ہے، اسی لیے ہم نے اپنی معلومات امریکا کے ساتھ شیئر کی تھیں۔ نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ اسرائیل نے ایران کے چیف جوہری سائنسدان پر حملہ کیا اور ان کی اعلیٰ عسکری قیادت کو بھی نشانہ بنایا۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا کا کردار واضح ہے، وہ جانتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ان کے مطابق، امریکی پائلٹس بھی ایران کی طرف سے اسرائیل کی طرف بڑھنے والے ڈرونز کو مار گرا رہے ہیں، اور امریکا اپنا اچھا برا خود سمجھتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران نے موساد کے ایک ایجنٹ کو پھانسی دیدی ایران نے موساد کے ایک ایجنٹ کو پھانسی دیدی اسرائیل کا حملہ: پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف محمد کاظمی اور نائب شہید امریکا، ایران-اسرائیل جنگ میں شامل ہوسکتا ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کراچی: صدر میں کسٹمز کا چھاپہ، 3 کروڑ مالیت کے بھارتی ساختہ موبائل فونز اور دیگر اشیاء برآمد امریکا نے سفارتی عملے کو اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت کردی جان بچانے کا واحد طریقہ ہے اسرائیل چھوڑ دو، ایرانی فوج کا اسرائیلی شہریوں کو انتباہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔