امریکا، ایران-اسرائیل جنگ میں شامل ہوسکتا ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 16 June, 2025 سب نیوز

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اسرائیل جنگ میں شامل ہونےکا عندیہ دے دیا۔
امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب تک ایران اسرائیل تنازع سے دور ہیں، عین ممکن ہے اس تنازع میں شامل ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ روسی صدرولادی میر پیوٹن نے مجھے فون کیا، ہماری اس تنازع پر طویل بات ہوئی ، روسی صدر تنازع کے حل کیلئے ثالِثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں، مجھے یقین ہے کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہوجائے گی تاہم کبھی کبھار ڈیل کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔

کینیڈا میں جی-سیون سربراہی اجلاس کے لیے روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا، اسرائیل کے دفاع کے لیے اس کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

قبل ازیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں کہا تھا کہ اگر ایران نے امریکا پر کسی بھی صورت میں حملہ کیا تو ہم اپنی فوجی طاقت کا بے مثال مظاہرہ کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر چاہیں تو ہم ایران اور اسرائیل کے درمیان آسانی سے معاہدہ کرا سکتے ہیں اور اس خونریز تنازع کو ختم کر سکتے ہیں۔

ایک اور پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کو معاہدہ کرنا چاہئے اور وہ کریں گے، ایران اور اسرائیل کو امن معاہدے کی طرف لایا جا سکتا ہے اور یہ صرف میں ہی کرسکتا ہوں ،جیسے میں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارت کے ذریعے بات چیت کروائی، ویسے ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان بھی امن قائم ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سربیا اور کوسووو کے درمیان دہائیوں پرانی لڑائی کو جنگ بننے سے روکا، مصر اور ایتھوپیا کے درمیان نیل دریا پر ڈیم کے تنازعے کو مداخلت کر کے روکا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ تنازعات حل کرکے مشرق وسطیٰ کو ایک بار پھر سے عظیم بناؤ، میں بہت کچھ کرتا ہوں لیکن کسی چیز کا کریڈٹ نہیں لیتا، کوئی بات نہیں عوام سمجھدار ہیں ، سب سمجھتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ بندی دلیل اور بات چیت سے کروائی ،میں نے دو بہترین رہنماؤں سے بات کی جو فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، پاک بھارت رہنماؤں سے بات چیت کے بعد سب کچھ رک گیا، پاکستان بھارت معاہدے میں تجارت کی دلیل دی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کا شرح سود میں 4فیصد کمی کرنے کا مطالبہ کراچی: صدر میں کسٹمز کا چھاپہ، 3 کروڑ مالیت کے بھارتی ساختہ موبائل فونز اور دیگر اشیاء برآمد امریکا نے سفارتی عملے کو اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت کردی جان بچانے کا واحد طریقہ ہے اسرائیل چھوڑ دو، ایرانی فوج کا اسرائیلی شہریوں کو انتباہ ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ: تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکے، حیفہ پاور پلانٹ میں آگ، درجنوں ہلاکتیں پیوٹن نے خامنہ ای کو امریکا سے مذاکرات تیز کرنے کا مشورہ دیا، اسرائیلی میڈیا کا دعوی ایران اسرائیل کو معاہدہ کرنا چاہئے اور یہ معاہدہ کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران اور اسرائیل ایران اسرائیل کہنا تھا کہ اسرائیل کے کے درمیان کے لیے

پڑھیں:

امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد

واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام